احسن العمل کون
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۷
کہ ان منتخب افراد کی صفات کیا ہوں گی ۔ اس سلسلے میں چند آیتیں یہ ہیں:
1۔ احسن باعتبار معرفت: مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ (5:83)
2۔ احسن باعتبار کلام: وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (16:125)
3۔ احسن باعتبار اخلاق: اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (41:34)
4۔ احسن باعتبار ہمسائگی: وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا (4:69)
5۔ احسن باعتبار سلوک: لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًا (56:25)، وغیرہ۔ اس قسم کی صفات جنت میں جاکر انسان کے اندر پیدا نہیں ہوں گے، بلکہ اسی دنیا میں انسان کو اپنے اندر یہ صفات پیدا کرنا ہے۔ یعنی ان پہلوؤں کے اعتبار سے جو لوگ موجودہ دنیا کی زندگی میں احسن العمل ثابت ہوں، وہ اللہ کی نظر میں قابلِ انتخاب افراد ہیں۔ فرشتوں کے ریکارڈ کے مطابق، ایسے لوگوں کو منتخب کر کے ایک ایسی دنیا میں جمع کیا جائے گا، جو ابدی ہوگی، اور عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ (3:133) کی مصداق ہوگی۔ یعنی جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ اہل سائنس نے ارض و سماء کی جو تاریخ دریافت کی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خالق کائنات نے ایک عالم کی تخلیق کی۔ اس عالم میں وہ ساری خوبیاں موجود تھیں، جو انسان جیسی کوئی مخلوق سوچ سکتا ہے۔ لیکن اس وسیع دنیا میں بظاہر رہنے والے لوگ موجود نہ تھے۔ اس کے بعد خالق نے انسان کو پیدا کیا۔ انسان کو مکمل آزادی دے کر سیارۂ ارض پر بسنے کا موقع دیا۔ آزاد ماحول کی یہ دنیا گویا ایک عظیم انسانی نرسری (nursery) تھی۔ اس میں ہر عورت اور مرد کو یہ موقع دیا گیا کہ وہ اپنے آپ کو گرو (grow) کرے، اور یہ ثابت کرے کہ وہ مطلوب معیار کے مطابق پورا اترتا ہے یا نہیں۔ یہ کام فرشتوں کی نگرانی میں پوری تاریخ میں جاری رہا۔ اس تاریخ کے آخر میں یہ ہوگا کہ تمام پیدا ہونے والے عورتوں اور مردوں کو اکٹھا کیا جائے گا، اور فرشتوں کے ریکارڈ کے مطابق، ان میں سے مطلوب افراد کا انتخاب ہوگا، اور ان کو یہ موقع دیا جائے گا کہ وہ جنت کے باغوں میں داخل ہو جائیں، اور ابدی طور پر وہاں ایک ایسی دنیا میں رہیں، جہاں ان کے لیے نہ حزن ہوگا اور نہ خوف (یونس، 10:62)۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2018 All issues