زندگی کا تصور
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۸
زندگی کا تصور
مسلح جہاد (armed struggle) اسلام میں کوئی اثباتی حکم نہیں ہے، بلکہ وہ ایک سلبی حکم ہے۔ مسلح جدوجہد کو اثباتی حکم کی حیثیت دینا، یہ تمام تر بعد کی پیداوار ہے۔ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ کمیونسٹ نظریے کے مطابق مسلح جدوجہد یہ ہے کہ قائم شدہ سسٹم کو بزور توڑا جائے، اور اس کی جگہ دوسرا مطلوب سسٹم قائم کیا جائے۔ مگر اس قسم کے تصور کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام مبنی بر نظام (system based) تصور نہیں ہے، بلکہ وہ مبنی بر فرد (individual based) تصور ہے۔ اسلام کا اصل مقصد تزکیہ افراد ہے ہے(طہ، 20:76)، نہ کہ تزکیۂ نظام۔ اسلام کے نزدیک کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ ہر فرد کے اندر یہ محرک پیدا کیا جائے کہ وہ اپنا تزکیہ کرے۔ یعنی اپنے اندر درست سوچ (right thinking) پیدا کرنا، اپنے اندر ذہنی ارتقا (intellectual development) کا عمل جاری کرنا۔ اپنے آپ کو ایسی شخصیت کی حیثیت سے تیار کرنا، جو جنت کی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہو۔ جنت میں ایسے افراد کو جگہ ملے گی، جو حسن رفاقت (النساء، 4:69) کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اسی معیار کے مطابق اپنے آپ کو مثبت انداز میں تیار کرنا۔ یہی اسلامی عمل کا اصل نشانہ ہے۔
اسلام کے مطابق، زندگی کا تصور یہ ہے کہ انسان کے دورِ حیات کے دو حصے ہیں۔ ایک، قبل از موت دور، اور دوسرا، بعد از موت دور۔ قبل از موت دور کی حیثیت تیاری کی ہے، اور بعد از موت دور کی حیثیت تیاری کے مطابق اپنے عمل کا انجام پانے کی۔ تمثیل کی زبان میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ قبل از موت دورِ حیات گویا ایک نرسری (nursery) ہے۔ یہاں انسان کو آزادی کے ساتھ پودے کی مانند اُگنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ بعد از موت دور کی حیثیت گویا ہیبیٹیٹ کی ہے۔ خالق کی اسکیم یہ ہے کہ نرسری میں آگے ہوئے صحت مند پودے کو نکال لیا جائے، اور اس کو ابدی ہیبیٹیٹ میں نصب کر دیا جائے۔ اس اعتبار سے موجودہ دنیا زندگی کا آغاز ہے، اور بعد کی دنیا زندگی کا انجام۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2018 All issues