Al-Risala · September 2018 · page 15

عظمتِ خداوندی

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۱۵

عظمتِ خداوندی

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کے سلسلے میں جو باتیں بیان کی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے : فَلَمَّا نَزَلْتُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، نَظَرْتُ أَسْفَلَ مِنِّي فَإِذَا أَنَا بِرَهْجِ وَدُخَانٍ وَأَصْوَاتٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذِهِ الشَّيَاطِينُ يَحومُونَ عَلَى أَعْيُنِ بَنِي آدَمَ، أَنْ لَا يَتَفَكَّرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَوْلَا ذَلِكَ لَرَأَوُا الْعَجَائِبَ (مسند احمد، حدیث نمبر 8640)۔ یعنی جب میں آسمان دنیا کی طرف اترا تو میں نے اپنے نیچے کی طرف دیکھا۔ تو میں نے پایا کہ وہاں غبار، دھواں، اور شور ہے۔ میں نے کہا : جبریل، یہ کیا ہے۔ جبریل نے کہا: یہ شیاطین ہیں، جو بنی آدم کی آنکھوں پر منڈلا رہے ہیں، تا کہ انسان آسمانوں اور زمین کی ملکوت میں تفکر نہ کریں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو انسان عجائب دیکھتے۔

اس حدیث میں عجائب سے مراد عالم فطرت کے ونڈرس (wonders of nature)

ہیں۔ نیچر کے یہ مشاہدات اللہ رب العالمین کی تخلیق کے مشاہدات ہیں۔ ان مشاہدات کو دیکھنے سے اللہ رب العالمین کی عظمت کا تجربہ ہوتا ہے۔ مگر تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس معاملے میں شیطان غالب آیا، اور شاید وہ پیغمبروں کے سوا ہر ایک کے لیے ان عجائبّات کو دیکھنے کی راہ میں مانع بن گیا۔ اس معاملے میں علمائے دین کی تاریخ نہایت عجیب منظر پیش کرتی ہے۔ بڑے بڑے علمائے دین میں سے شاید کوئی بھی شخص نہیں جو ان عجائب قدرت کو دیکھے، اور ان سے اللہ رب العالمین کا تجربہ حاصل کرے۔ دوربین (telescope) کے وجود میں آنے سے پہلے بھی تاریخ ایسے کسی عالم دین کی خبر نہیں دیتی، اور دوربین کے وجود میں آنے کے بعد بھی ایسا کوئی عالم دین تاریخ کے تذکرے میں موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں علمائے فُنّیات تو بہت ملتے ہیں، لیکن عجائب فطرت کا کوئی عالم موجود نہیں۔ معرفت کی کتاب ایسے باب سے یکسر خالی ہے۔ اس حدیث میں شیطان کے شور و شغَب وغیرہ سے مراد شاید اہل مغرب کے خلاف مسلمانوں کے اندر عمومی سطح پر منفی

‹ Previous page Next page › Contents of September 2018 All issues

Printed page