Al-Risala · September 2018 · page 16

عظمتِ خداوندی

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۱۶

نفسیات کا پیدا ہونا ہے۔

شیاطین کا آنکھوں پر منڈلانا (to hover about) بہت با معنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ فطرت کے مظاہرہ کو مقدس بنا کر انسان سے یہ اسپرٹ چھین رہے ہیں کہ وہ فطرت کے مظاہر پر آزادانہ غور و فکر کریں۔ جو خالق کی معرفت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ یہی وہ چیز ہے، جس کو قرآن میں فتنه (الانفال، 8:39) کہا گیا ہے۔ اس فتنه کو اسلام نے ختم کیا ہے۔ یعنی اسلام کے ذریعے وہ پر اسس شروع ہوا، جس نے فطرت کے مظاہر کو تقدس (holiness) کے مقام سے ہٹا کر ریسرچ کا موضوع (subject of research) بنا دیا۔ دوسرے الفاظ میں دونوں کو ایک دوسرے سے ڈی لنک (delink) کر دیا۔

اس کے بعد تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری ہوا۔ اب فطرت کے مظاہر کی آزادانہ ریسرچ (objective research) ہونے لگی۔ مختلف اسباب کی بنا پر یہ کام تمام تر اہلِ مغرب نے انجام دیا۔ یہ عمل گلیلیو اور نیوٹن کے زمانے میں شروع ہوا۔ اسی عمل (process) کا نقطہ انتہا وہ ظاہر تھا، جس کو تہذیب (civilization) کہا جاتا ہے۔

مغربی تہذیب در اصل اللہ کے تخلیقی عجائب (wonders of creation) کا نام تھی۔ اس تہذیب کے تحت جو سائنس پیدا ہوئی، وہ دراصل وہی چیز تھی، جس کے ذریعے وہی کام انجام پایا جس کو قرآن میں تبیین حق (فصلت، 41:53) کہا گیا ہے، یعنی خالق کی معرفت بذریعہ تخلیق۔ جیسا کہ حدیث میں پیشین گوئی کے طور پر آیا ہے: اِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر (3062)۔ یعنی اللہ اس دین کی مدد فاجر آدمی سے کرے گا۔ مگر معاملہ یہ پیش آیا کہ جس چیز پر مسلمان بھڑک گئے، وہ ان کا فاجر ہونا تھا۔ حالاں کہ اس حدیث کا مطلب یہ تھا کہ کلچرل اعتبار سے اگر چہ وہ ایسی باتوں میں مبتلا ہوں گے، جو برا ہو گا، مگر وہ جو کام انجام دیں گے، وہ اسلام کی تائید کا کام بن جائے گا۔ یعنی اس سے تبیین حق کا دروازہ کھلے گا، اور معرفت حق کو اعلیٰ پیمانے پر سمجھنا ممکن ہو جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2018 All issues

Printed page