Al-Risala · September 2018 · page 21

اسلام کا مطلوب

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۲۱

لَنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا (17:1)۔ یعنی پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنایا ہے، تاکہ ہم اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔

اس سفر میں آپ کو جو نشانی (sign) دکھائی گئی وہ یروشلم کی کوئی چیز نہ تھی، بلکہ اس سے مراد وہی چیز تھی جس کو قرآن میں اسرا کہا گیا ہے۔ یعنی مکہ اور یروشلم کے درمیان تیز رفتار سفر۔ اس تیز رفتار سفر کا تجربہ اُس وقت آپ کو علامتی طور پر کرایا گیا۔ اس کا مقصد پیشگی طور پر اُس واقعے کو بتانا تھا، جو آپ کے بعد تاریخ میں مواصلاتی دور (age of communication) کی صورت میں پیش آنے والا تھا۔ یہ مواصلاتی دور جو جدید تہذیب کے ذریعے دنیا میں آیا، وہ اسلام کے دعوتی مشن کے لیے ایک بہت بڑا موافق پہلو تھا۔ اس انقلاب نے عملی طور پر اس بات کو ممکن بنا دیا کہ اسلام کا پیغام تیز رفتار ذرائع سے ساری دنیا میں پہنچایا جاسکے۔

اسلام کا مطلوب

اسلام کا اصل مطلوب کوئی نظام قائم کرنا نہ تھا، اور نہ اسلام کا نشانہ یہ تھا کہ ساری دنیا میں اسلام کی سیاسی حکومت قائم کی جائے۔ یہ سب مبتدعانہ تصورات (innovated concepts) ہیں، جو بعد کے دور میں پیدا ہوئے۔ اسلام کا اصل نشانہ صرف ایک تھا، اور وہ وہی ہے، جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: رُسُلاً مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ (4:165)۔ یعنی اللہ نے رسولوں کو خوش خبری دینے والے اور آگاہ کرنے والا بنا کر بھیجا، تا کہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت باقی نہ رہے۔ اسلام کا یہ دعوتی نشانہ قدیم زمانے میں صرف محدود طور پر انجام دینا ممکن تھا۔ بعد کو ترقیات کے دور میں یہ امکان پوری طرح وقوع میں آنے والا تھا، تا کہ اسلام کا یہ نشانہ عالمی سطح پر بلا روک ٹوک انجام پائے۔ اس حقیقت کو قرآن وحدیث میں مختلف الفاظ میں پیشگی طور پر بتا دیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: لَا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ، وَلَا وَبَرٍ إِلَّا

‹ Previous page Next page › Contents of September 2018 All issues

Printed page