اسلام اکیسویں صدی میں
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۲۲
أَدْخَلَهُ اللَّهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ (مسند احمد ، حدیث نمبر 23814 ) - یعنی زمین کی سطح پر کوئی چھوٹا یا بڑا گھر نہیں بچے گا، مگر یہ کہ اللہ اس کے اندر اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا۔
اسلام اکیسویں صدی میں
اب اسلام کی تاریخ اکیسویں صدی میں ہے۔ آج کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ اسلام کے دعوتی مشن کی منصوبہ بندی (planning) جدید حقائق کی روشنی میں کی جائے۔ جدید پیدا شدہ مواقع (opportunities) کو پوری طرح اسلام کے پرامن عالمی مشن کے لیے استعمال کیا جائے۔ قرآن میں اعلان کیا گیا تھا : تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (25:1)۔ یعنی بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تا کہ وہ جہان والوں کے لئے ڈرانے والا ہو۔ اس آیت کے مطابق، یہ مطلوب تھا کہ قرآن کے پیغام کو تمام اہل عالم تک پہنچایا جائے، اور یہ کام تمام قوموں کی اپنی قابل فہم زبان میں انجام دیا جائے۔ جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ (14:4)۔ یعنی اور ہم نے جو پیغمبر بھیجا اس قوم کی زبان میں بھیجا، تا کہ وہ ان سے بیان کر دے۔
قرآن کا یہ نشانہ سفر کرتے ہوئے اب اکیسویں صدی عیسوی میں اپنے آخری دور میں پہنچ گیا ہے۔ اب ضرورت یہ ہے کہ قرآن کو تمام قوموں کی قابل فہم زبانوں میں ترجمے کر کے ان کو تمام لوگوں تک پہنچایا جائے۔ دسمبر 2015 میں راقم الحروف کا ایک سفر کناڈا کے لیے ہوا تھا۔ وہاں میں نے تعلیم یافتہ مسلمانوں کے ایک اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے اس پہلو کا ذکر کیا اور کہا : What a thrilling idea that in the 21st century, we are in a position to complete the unfinished target of the Quran!
☆☆☆☆☆☆
جس طرح خالص دینی معاملات میں اصلاح کا آغاز تو بہ سے ہوتا ہے، اسی طرح قومی اور سیاسی زندگی میں بھی کوئی نیا بہتر آغاز رجوع واعتراف کے ذریعے ہوتا ہے۔ ماضی کی غلطیوں کو مانے بغیر مستقبل کی کامیاب منصوبہ بندی ممکن نہیں ہوتی ، اور اس معاملے میں کوئی استثناء نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2018 All issues