حاکم کی خیر خواہی
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۲۴
حاکم کی خیر خواہی
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے : مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْصَحَ لِسُلْطَانٍ بِأَمْرٍ، فَلَا يُبْدِ لَهُ عَلَانِيَةً، وَلَكِنْ لِيَأْخُذْ بِيَدِهِ، فَيَخْلُوَ بِهِ، فَإِنْ قَبِلَ مِنْهُ فَذَاكَ، وَإِلَّا كَانَ قَدْ أَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ لَهُ (مسند احمد، حدیث نمبر 15333)۔ یعنی جو یہ چاہے کہ وہ صاحب امر کو اس کے کسی فعل پر خیر خواہانہ نصیحت کرے تو وہ علانیہ طور پر ایسا نہ کرے، بلکہ وہ اس کا ہاتھ پکڑے، اور اس کو تنہائی میں لے جائے۔ اگر حاكم اس کی بات کو قبول کر لے تو بہتر ہے، ورنہ اس نے حاکم کے تعلق سے اپنا فرض ادا کر دیا۔ حاکم کو اس کی کسی غلطی پر نصیحت کرنا، بلاشبہ ایک اچھا کام ہے۔ لیکن انسان کو چاہیے کہ وہ ایسا کام ہمیشہ نتیجے کو دیکھ کر کرے۔ اگر وہ علانیہ طور پر صاحب امر کو نصیحت کرے گا تو عین ممکن ہے کہ وہ بھڑک اٹھے، اور ایسا کوئی اقدام کرے جو دونوں کے درمیان ٹکراؤ کا سبب بن جائے، اور نصیحت کا ؤنٹر پروڈکٹیو(counter-productive) بن جائے۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ نتیجے کو ملحوظ رکھتے ہوئے نصیحت کرے۔ نتیجہ خیز نصیحت ایک ثواب کا کام ہے، لیکن جو نصیحت ٹکراؤ کا سبب بن جائے، وہ باعتبار نتیجہ نصیحت نہیں ہے، بلکہ فتنہ انگیزی ہے۔
یہ بات بے حد حکمت پر مبنی ہے کہ صاحب امر اگر نصیحت کو قبول کر لے تو ناصح کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس کو ایک نیک کام کرنے کی توفیق ملی، اور اگر وہ نصیحت قبول نہ کرے تو ناصح پر لازم ہے کہ وہ اس کے بعد چپ ہو جائے۔ کیوں کہ ناصح کا جو فریضہ تھا، اس کو ناصح نے ادا کر دیا۔ اگر صاحب امر نصیحت قبول نہ کرے تو اس کے بعد اس کا اعلان کرنا، یا اس کے خلاف تنقید کی مہم شروع کرنا، نصیحت نہیں ہے، بلکہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے وہ فتنہ انگیزی ہے، اور فتنہ انگیزی اپنے آپ میں ایک بہت بڑا گناہ ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صاحب امر اگر غلطی کرے تو اس کو خیر خواہانہ نصیحت کرنا ہے۔ ایسی حالت میں ناصح اگر یہ کرے کہ وہ صاحب امر کے خلاف ہتھیار اٹھا لے، یا وہ اس کے خلاف اپوزیشن کی تحریک چلائے تو خود ناصح نے ایک ناقابل معافی گناہ کا کام کیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2018 All issues