Al-Risala · September 2018 · page 25

اسلام کے نام پر غیر اسلام

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۲۵

اسلام کے نام پر غیر اسلام

امت کے دور زوال کے بارے میں ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: إِنَّ أَوَّلَ مَا يُكَفَّأُ - قَالَ زَيْدُ: يَعْنِي فِي الْإِسْلَامِ - كَمَا يُكَفَّأُ الْإِنَاءُ يَعْنِي الْخَمْرَ فَقِيلَ: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَدْ بَيَّنَ اللَّهُ فِيهَا مَا بَيَّنَ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا فَيَسْتَحِلُّونَهَا (سنن الدارمی، حدیث نمبر 2145)۔ یعنی بے شک (اسلام میں) پہلا (بگاڑ) اوندھا کرنے کی صورت آئے گا، جیسے برتن اوندھا کیا جاتا ہے، (اور وہ شراب ہوگی)۔ پوچھا گیا کہ ایسا کس طرح ہوگا، حالاں کہ اللہ نے (دین میں) اس کو بیان کر دیا جیسا کہ بیان کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: لوگ اس کا نام بدل کر کچھ اور نام رکھ دیں گے، پھر وہ اس کو جائز کر لیں گے۔

اس حدیث رسول میں خمر (شراب ) کا لفظ علامتی معنوں میں آیا ہے۔ یعنی دور زوال میں امت کے اندر خواہش پرستی کا دور آجائے گا۔ لوگ دین پر چلنے کے بجائے، اپنی خواہشات پر چلنے لگیں گے۔ اگر کوئی چیز بظاہر ممنوع (prohibited) ہوگی، تو لوگ نام بدل کر اس کا اسلامی نام رکھ لیں گے، اور پھر وہ اس کو جائز کر لیں گے۔ مثلاً قوم پرستی کا نام اسلامی حمیت، شادی کی مسرفانہ دھوم کا نام مسنون نکاح، نکاح،کلچرل رواج کا نام دینی شناخت، وغیرہ۔

موجودہ زمانے میں اس بگاڑ کی ایک عام صورت وہ ہے، جس کا تعلق دعوت و تبلیغ سے ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی شکست خوردہ نفسیات کو نہایت منظم (organized) انداز میں ایکسپلائٹ کیا جاتا ہے، اور اس کا نام رکھ دیا جاتا ہے دعوت و تبلیغ۔ کچھ لوگ جن کے اندر قوت کلام ہوتی ہے، اور جو مارکٹنگ (marketing) کا فن جانتے ہیں، وہ اس قسم کے مناظرہ (debate) کو ایک باقاعدہ پروفیشن کے طور پر اختیار کر لیتے ہیں، اور لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ دعوت و تبلیغ کا کام کر رہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2018 All issues

Printed page