الاضحیٰ، پیغمبر ابراہیم کا منصوبہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۲۷
کے سوا کوئی ان کو ساتھی نہیں ملا۔ ان کا مشن تاریخ میں امن کا دور لانا تھا۔ مشن کے اس انجام کا سبب یہ تھا کہ اس زمانے میں ساری دنیا کے انسانوں میں قبائلی کلچر (tribal culture) کا رواج تھا۔ اس کلچر کے تحت لوگ مسلسل طور پر آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ اس کے سوا کسی اور کلچر کو وہ جانتے ہی نہ تھے۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ قدیم زمانے میں دنیا میں کوئی بڑا تعمیری کام نہ ہوسکا۔ قدیم زمانے کے انسان نے لڑائی کی تاریخیں تو بنائی لیکن وہ امن کی تاریخ بنانے میں ناکام رہے۔ اللہ کی ہدایت کے مطابق، حضرت ابراہیم نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ وہ تھا، خصوصی تربیت کے ذریعے ایک نئی نسل بنانا۔ یہ صحرائی تربیت (desert therapy) کا طریقہ تھا۔ چنانچہ انھوں نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو لا کر عرب کے غیر آباد صحرا میں بسا دیا۔ یہاں نسل در نسل ڈی کنڈیشننگ کے ذریعے ایک نئی نسل بنی جس کو بنو اسماعیل کہا جاتا ہے۔
یہ نسل تاریخ کی پہلی امن پسند تھی ۔ اس واقعے کا ذکر قرآن کی ایک آیت میں اس طرح کیا گیا ہے : وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ (3:103)۔ یعنی اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور پھوٹ نہ ڈالو۔ اور اللہ کا یہ انعام اپنے اوپر یاد رکھو کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ پھر اس نے تمھارے دلوں میں الفت ڈال دی۔ پس تم اس کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے۔ اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے کھڑے تھے تو اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا۔ اس طرح اللہ تمھارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تا کہ تم راہ پاؤ۔
صحرائی تربیت کے ذریعے پیدا ہونے والا یہی وہ امن پسند گروہ ہے، جس کو پیغمبرِ اسلام نے با مقصد بنیاد پر منظم کیا۔ اور پھر ان کو لے کر وہ انقلاب برپا کیا جو تاریخ کا پہلا مبنی بر امن انقلاب تھا۔ اس امن پسند گروہ کی جدوجہد کے ذریعے تاریخ میں ایک نیا پر اسس شروع ہوا، جو اس پر امن دور تک پہنچا، جس کو جدید دور (modern age) کہا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2018 All issues