Al-Risala · September 2018 · page 26

الاضحیٰ، پیغمبر ابراہیم کا منصوبہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۲۶

الاضحیٰ، پیغمبر ابراہیم کا منصوبہ

11 ستمبر 2001 کو نیو یارک میں ایک ہولناک واقعہ ہوا، جس کو عام طور پر نائن الیون کہا جاتا ہے۔ اس دن کچھ مسلم نوجوانوں نے چار ہوائی جہازوں کو ہائی جیک کیا، اور ان میں سے دو کو نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرا دیا۔ اس کے نتیجے میں 104 منزل کا ٹاور فوراً تباہ ہو گیا۔ اس حادثے میں تقریباً تین ہزار آدمی فوری طور پر ہلاک ہو گئے۔ اس واقعہ میں ملوث انیس مسلم ہائی جیکر بھی ہلاک ہو گئے۔ چار مسلمان جنھوں نے جہاز کو آخری مرحلہ میں چلایا تھا، ان کے نام یہ ہیں : محمد عطاء، مروان لٹھی، ہانی خنجور، زیاد جراح۔

یہ واقعہ گیارہ ستمبر 2001 کو نیویارک میں ہوا تھا۔ سال 1437 ھ میں کیلنڈر کے اتفاق کی بنا پر عید الاضحی اسی تاریخ (9/11) کے قریب ہوئی ہے۔ مگر منصوبے کے اعتبار سے دیکھا جائے تو دونوں واقعے میں فرق ہے۔ پہلے واقعہ میں انسان کو ہلاک کرنے کا منصوبہ تھا، تو عید الاضحی کی ابراہیمی یادگار انسان کو زندگی دینے کا منصوبہ ہے۔ اس لحاظ سے عید الاضحی مسلمانوں کو یاد دلا رہی ہے کہ تم انسان کی ہلاکت کا منصوبہ چھوڑو، اور انسان کو زندگی دینے کا منصوبہ بناؤ۔ قرآن کی ایک آیت میں دونوں قسم کے منصوبے کے فرق کو اس طرح بتایا گیا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے : اسی سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک شخص کو بچایا تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو بچا لیا۔ (المائدہ، 5:32 )

پیغمبر ابراہیم بن آزر تینوں سامی مذاہب یہودیت، عیسائیت، اور اسلام کے مورث اعلیٰ تھے ۔ وہ عراق کے قدیم شہر أر (Ur) میں پیدا ہوئے ۔ وہ 175 سال زندہ رہے، اور 1985 ق م میں ان کی وفات ہوئی ۔ وہ پورے معنوں میں ایک مین آف مشن تھے۔ انھوں نے اپنی لمبی عمر میں اپنا مشن عراق میں اور اطراف کے علاقے میں چلایا۔ مگر اپنے خاندان کے چند افراد (بیوی، بھتیجا، بیٹا)

‹ Previous page Next page › Contents of September 2018 All issues

Printed page