Al-Risala · September 2018 · page 50

سیکولرزم کیا ہے

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۵۰

رابطہ نمبر ایوب صاحب کو دے کر اپنے وطن واپس آگئے ۔ مسٹر حمید اللہ حمید نے سی پی ایس پونے کے جناب عبد الصمد صاحب سے رابطہ کیا، اور قرآن پہنچانے کی درخواست کی۔ چنانچہ عبد الصمد صاحب نے 20 مئی 2018 کو مسٹرکنال ڈیشپانڈے کو مراجھی ترجمہ قرآن ، دی ایچ آف پیس اور دوسری دعوہی کتابیں پہنچائی۔ اسی دن عبد الصمد صاحب نے مہاراشٹر کے مشہور میڈیا گروپ ساکال کے بکس اور پبلیکیشن منیجر مز ایشور یہ کیمتھ کال کو بھی مراٹھی ترجمۂ قرآن اور دیگر دعوت لٹریچر دیا۔

31 مئی 2018 کو سی پی ایس (دہلی) کے متحرک ممبر مسٹر جت مہلوتر ا فلائٹ کے ذریعے دہلی سے امرتسر جا رہے تھے۔ اسی فلائٹ میں مرکزی وزیر برائے ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ مسٹر پرکاش جاوڈ کر بھی سفر کر رہے تھے۔ مسٹر جت مہلوتر ا نے اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے انگریزی ترجمہ قرآن کی ایک کاپی مسٹر جاوڈ کر کو یہ کہتے ہوئے پیش کی کہ یہ ہماری طرف سے آپ کے لیے اسپرپیچول گفٹ ہے۔ انھوں نے ہاتھ جوڑ کر ترجمہ قرآن کا نسخہ لیا اور شکریہ ادا کیا۔

صدر اسلامی مرکز کی فکر پر دنیا کے مختلف ممالک میں اکیڈمک ریسرچ کا کام ہورہا ہے۔ مثلاً مسٹر فیصل شہزاد سرگودھا یونیورسٹی، پاکستان سے صدر اسلامی مرکز کے سفر ناموں پر ایم فل کا مقالہ لکھ رہے ہیں۔ اسی طرح عرب نوجوان تجلی بن حبیب عبد اللطیف تیتونس کی زیتونیہ یونیورسٹی سے جولائی 2018 میں اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ مکمل کر چکے ہیں۔ ان کے مقالے کا عنوان تھا: تجديد علم الكلام عند وحید الدین خان ۔ ریسرچ کا کام انھوں نے ڈاکٹر محمد المستیری کی نگرانی میں مکمل کیا۔

Br. Khaja Kaleemuddin, We just received two pallets of the Quran before our major event. We are very excited. May Allah reward you and all your dawah team in the US and in India. Special thanks and prayer for our Sheikh Maulana Wahiduddin. May God keep him always in good health and always increase him in knowledge and wisdom and accept his services for conveying the message of Truth. Please covey our salaam to him from Why Islam team in Los Angeles. (Br. Hussain)

I had an incredible experience. I lost my hand luggage in the domestic airport and hunting it across airport made me the last person to reach the boarding gate. And there was a VIP entering the same time. It was none other than Ram Vilas Paswan. I quickly took out a copy of the Quran and gave it to him. When he saw what it was, he humbly accepted and asked if he could contact me. I said details of the translator are printed and he is my Guru Maulana Wahiduddin Khan. It was God who made me forget my hand luggage so I could meet him in the end. It was a radio and it was lying for two hours in the same place I forgot it. And I was surprised it went in unnoticed by all passengers and high security. God is with us. (Asad Pervez, New Delhi)

‹ Previous page Next page › Contents of September 2018 All issues

Printed page