سیکولرزم کیا ہے
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۴۹
پروگرام نیشنل میڈیکل کالج، سہارن پور میں ہوا۔ 25 اپریل 2018 کو یوپی کے منسٹر اور سہارن پور کے ایم ایل اے جناب سنجے گرگ کو سی پی ایس کا لٹریچر دیا گیا۔ ایم ایل اے صاحب نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ سی پی ایس کے پر امن مشن میں ہر وقت تعاون کے لیے تیار ہیں۔
• فرات انسٹیٹیوٹ (Euphrates Institute) ایک امریکی این جی او ہے، جو عالمی پیمانے پر سماجی امن اور مذہبی رواداری کے لیے کام کرتا ہے۔ انھوں نے 13 اپریل 2018 کو سی پی ایس انٹرنیشنل کو اپنے ایک ورکشاپ کے لیے مدعو کیا تھا۔ امریکا سے جن ممبران نے شرکت کی، وہ یہ ہیں: مسٹر خواجہ کلیم الدین، اور مز کوثر اظہار، اور انڈیا سے بذریعہ انٹرنیٹ جنھوں نے شرکت کی، وہ یہ ہیں: مسٹر رجت ملہوترا، اور مز ماریہ خان۔ پروگرام بہت کامیاب رہا، اور تمام اسلام، امن، عورت، وغیرہ کے موضوع پرسن کر بہت خوش ہوئے۔ لکچر کے بعد سوال و جواب بھی ہوا۔ ورکشاپ کا یہ پروگرام لائیو کاسٹ ہوا، اور دنیا کے مختلف مقامات پر سنا گیا۔ • راما نوجن کالج (دلی یونیورسٹی) کے ادارہ تبت ہاؤس کلچرل سینٹر اور سینٹر فار ایتھکس اینڈ ویلوز نے عالمی اخلاقیات پر دوسرا کٹلیو 14۔ 15 اپریل 2018 کو انڈیا ہیبیٹاٹ سینٹر، نئی دہلی منعقد کیا تھا۔ اس کا عنوان تھا: پرسپیکٹیو آف ایموشنل انٹیلیجنس ان ایجوکیشن۔ اس پروگرام کے ایک پینل ڈسکشن میں سی پی ایس انٹرنیشنل کو اس موضوع پر اسلامی نکتہ نظر رکھنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ سی پی ایس انٹرنیشنل کی جانب سے ڈاکٹر نغمہ صدیقی نے اس موقع پر اسلام کا نقطہ نظر پیش کیا، اور شرکاء کے درمیان انگریزی ترجمہ قرآن اور دعوہ لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ • 24 اپریل 2018 کو ساہتیہ اکیڈمی دہلی کی جانب سے ایک کثیر المذاہب پروگرام کا انعقاد کیا گیا ۔ اس پروگرام کا ٹاپک تھا: قدیم کتابوں میں صفائی کا تصور (The Concept of Cleanliness in Ancient Texts) ۔ اس پروگرام میں خطاب کرنے کے لیے سی پی ایس ممبر ڈاکٹر فریدہ خانم کو بھی دعوت نامہ ملا تھا۔ انھوں نے مذکورہ عنوان کے تحت قرآن اور حدیث کی روشنی میں صفائی کی اہمیت کو واضح کیا جسے سامعین نے کافی پسند کیا۔ آخر میں ترجمہ قرآن اور دعوتی لٹریچر لوگوں میں تقسیم کیے گئے، جنھیں تمام لوگوں نے نہایت خوشی اور احترام سے قبول کیا۔
• سی پی ایس علما ٹیم نے 11 تا 14 مئی 2018 دہلی کا دورہ کیا، اور صدر اسلامی مرکز کی صحبت میں رہ کر مختلف امور میں رہنمائی حاصل کی۔ یہ ٹیم 8 علماے دین پر مشتمل تھی۔
• مسٹر کنال دیشپانڈے پونے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ بطور سیاحت کشمیر گئے۔ وہاں ان کی ملاقات ایک کشمیری مسلمان، مسٹر ایوب سے ہوئی۔ مسٹر ایوب نے ان سے خواہش ظاہر کی کہ وہ انھیں ترجمہ قرآن گفٹ کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے مسٹر ایوب نے کشمیر ٹیم کے مسٹر حمید اللہ حمید صاحب سے گفتگو کی۔ اسی اثنا میں مسٹر کنال اپنا
‹ Previous page Next page › Contents of September 2018 All issues