معرفت کا کلمہ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۸، صفحہ ۸
نے کہا: آپ ایسا نہ کریں، میں ڈرتا ہوں کہ لوگ اسی پر بھروسہ نہ کرلیں۔ اُن کو چھوڑ دیجیے، عمل کرنے کے لیے (فَلَا تَفْعَلُ، فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ عَلَيْهَا، فَخَلَّهُمْ يَعْمَلُونَ)۔ رسول اللہ نے کہا: لوگوں کو چھوڑ دو (فَخَلَّهُمْ) ۔ صحیح مسلم ، حدیث نمبر 31۔
دونوں روایتوں پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ بطاقہ میں جس کلمۂ شہادت کا ذکر ہے، وہ باعتبار الفاظ نہیں ہے، بلکہ وہ باعتبار معنی ہے۔ شہادت کا کلمہ باعتبار حقیقت بلا شبہ اتنا زیادہ بھاری ہے کہ اس کی وجہ سے پہاڑ پھٹ پڑا، اور پیغمبر موسیٰ بیہوش ہو کر گر پڑے (الاعراف، 7:143)۔ مذکورہ روایت میں کسی انسان کا جو بطاقہ نکلا تھا، وہ غالباً معرفت کا بطاقہ تھا۔ اس انسان سے اگر چہ بڑی تعداد میں خطائیں سرزد ہوئی تھیں، لیکن اس پر کوئی وقت ایسا گزرا، جب کہ اس کے اوپر نہایت شدت کے ساتھ خطا کا احساس طاری ہوا۔ اس وقت شہادت حق کا اعتراف اس کی زبان سے اتنی زیادہ طاقت کے ساتھ نکلا، جو اس کی تمام خطاؤں پر بھاری ہو گیا۔ خطاؤں کے شدید احساس سے اس کا سینہ پھٹ پڑا۔ شہادت کا اعتراف اس کی زبان سے سیلاب بن کر نکل پڑا، جس سے زمین و آسمان دہل اٹھیں۔ غالباً اس کی وہ کیفیت ہوئی ہوگی، جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے : اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (8:2)۔ یعنی ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمان بڑھادیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ یہی وہ بطاقہ ہے، جس کا ذکر اوپر کی روایت میں آیا ہے۔ بطاقہ (کارڈ) کا واقعہ غالباً اسی حقیقت کا ایک ڈیمانسٹریشن (demonstration) ہوگا۔
☆☆☆☆☆☆
جنت کی دنیا میں انسان کامل آزادی کے ساتھ رہے گا، لیکن وہ اتنا زیادہ پختہ اور اتنا زیادہ باشعور ہوگا کہ وہ کسی بھی حال میں اپنی آزادی کا غلط استعمال نہیں کرے گا۔ وہ پوری طرح آزاد ہوتے ہوئے بھی پوری طرح ڈسپلن میں رہے گا۔ یہی وہ انسان ہے جس کے سلیکشن کے لیے موجودہ زمینی سیارہ بنایا گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2018 All issues