جنت کا معاملہ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۸، صفحہ ۹
جنت کا معاملہ
علامہ ابن القیم کا ایک قول ہے: فَإِنَّهُ لَا نَعِيمَ لَهُ وَلَا لَذَّةَ، وَلَا ابْتِهَاجَ، وَلَا كَمَالَ، إِلَّا بِمَعْرِفَةِ اللَّهِ وَمَحَبَّتِهِ، وَالطُّمَأْنِينَةِ بِذِكْرِهِ، وَالْفَرَحِ وَالِابْتِهَاجِ بِقُرْبِهِ، وَالشَّوْقِ إِلَى لِقَائِهِ، فَهَذِهِ جَنَّتُهُ الْعَاجِلَةُ، كَمَا أَنَّهُ لَا نَعِيمَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ، وَلَا فَوْزَ إِلَّا بِجِوَارِهِ فِي دَارِ النَّعِيمِ فِي الْجَنَّةِ الْآجِلَةِ، فَلَهُ جَنَّتَانِ لَا يَدْخُلُ الثَّانِيَةَ مِنْهُمَا إِنْ لَمْ يَدْخُلُ الْأُولَى - وَسَمِعْتُ شَيْخَ الْإِسْلَامِ ابْنَ تَيْمِيَّةَ قَدَّسَ اللَّهُ رُوحَهُ يَقُولُ : إِنَّ فِي الدُّنْيَا جَنَّةً مَنْ لَمْ يَدْخُلُهَا لَمْ يَدْخُلْ جَنَّةَ الْآخِرَةِ (مدارج السالکین، جلد 1، صفحہ (452) ۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا جولوگ جنۃ العاجلہ، یعنی دنیا کی جنت کو پائے ، اس کے لیے یقینی ہے کہ وہ آخرت کی جنت بھی پائے گا۔ (حافظ سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تامل ناڈو) میرے نزدیک یہ ایک مشکل سوال ہے۔ اس لیے کہ اگرچہ بظاہر ایک درست بات معلوم ہوتی ہے، لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو اس معاملے کی ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے، اور وہ یہ کہ جنت کے معاملے میں شک کا معاملہ شاید کبھی ختم نہیں ہوگا، جب تک کہ انسان جنت میں عملاً داخل نہ ہوجائے۔ کیوں کہ ایک حدیث رسول ہے کہ تم میں سے کسی کو ہرگز اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا ( لَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ) ۔ لوگوں نے کہا: آپ بھی نہیں ، اے خدا کے رسول۔ آپ نے کہا: میں بھی نہیں، مگر یہ کہ اللہ نے مجھے اپنی رحمت سے ڈھانک لیا ہے، تو خود کو سیدھے راستے پر رکھو، میانہ روی اختیار کرو، صبح و شام کی عبادت کرو، اور رات کے کچھ حصے میں ۔ میانہ روی اختیار کرو، میانہ روی۔ تم مراد کو پہنچ جاؤ گے ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 6463)۔
یہ معاملہ ایک بے حد نازک معاملہ ہے، چنانچہ میں نے اپنی ایک کتاب میں اس طرح لکھا ہے : یہ محبت اور خوف کا ایک ایسا مقام ہے، جس میں آدمی جس سے ڈرتا ہے، اسی کی طرف بھاگتا ہے، جس سے چھینے کا خطرہ محسوس کرتا ہے، اسی سے پانے کی بھی امید رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسا اضطراب ہے، جو سراپا اطمینان ہے، اور ایسا اطمینان ہے، جو سراپا اضطراب ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2018 All issues