Al-Risala · October 2018 · page 17

امت میں قتال

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۸، صفحہ ۱۷

بنایا جاتا تھا۔ یہ کلچر خالق کے تخلیقی نقشے (creation plan) کے خلاف تھا۔ چنانچہ رسول اور اصحاب رسول کو یہ حکم دیا گیا کہ مذہبی ایذارسانی (فتنہ) کے خلاف جنگ کر کے اس کو ختم کر دو۔ تاکہ تخلیقی نقشہ کے مطابق دنیا میں مذہبی آزادی کا دور آ جائے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اول کا زمانہ ہے۔ اس وقت جب رسول نے مذہب توحید کا مشن شروع کیا تو وہ لوگ آپ کے خلاف ہوگئے، جو مذہب شرک پر قائم تھے۔ انھوں نے آپ کے خلاف تشدد اور جنگ کا طریقہ اختیار کیا۔ اس طرح دونوں گروہوں کے درمیان ٹکراؤ ہوا، جو آخر کار یہاں تک پہنچا کہ مذہبی ایذارسانی کا دور ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔ ساتویں صدی عیسوی سے اب تک کی تاریخ بتاتی ہے کہ مذہب کے نام پر ایذارسانی کا دور اس طرح ختم ہوا کہ وہ دوبارہ عمومی کلچر کے طور پر دنیا میں رایج نہ ہوسکا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں قتال (جنگ) کا حکم ایک عارضی (temporary) سبب سے تھا۔ جب یہ سبب ختم ہو جائے تو قتال کا حکم بھی عملاً موقوف ہو جائے گا۔ یہی اسلام کی تاریخ میں پیش آیا۔ اسلام کے ابتدائی دور میں، ماضی کے تسلسل کے تحت جنگ کی صورت پیش آئی۔ مگر جنگ کا یہ حکم عارضی تھا۔ قرآن کے الفاظ میں جب محاربین اپنا اوزار رکھ دیں (محمد، 4: 4)، تو جنگ کا خاتمہ ہو گیا، اور اس کے بعد وہ اصل کام شروع ہو گیا جو اسلام کا مستقل حکم تھا، یعنی دعوت الی اللہ۔ اس کے بعد انیسویں صدی کا زمانہ جب شروع ہوا تو یہ زمانہ حقیقت میں جنگ سے بیزاری اور مذہبی آزادی کو بطورِ نارم (norm) ماننے کا زمانہ تھا، مگر مسلمانوں نے دوبارہ ایک جنگ شروع کر دی۔ بظاہر یہی وہ جنگ ہے جس کا اشارہ بطور پیشین گوئی مذکورہ بالا حدیث رسول میں کیا گیا تھا۔ اور اس پیشین گوئی کے مطابق، بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس جنگ کا خاتمہ ہونے والا نہیں۔ یہاں تک کہ قیامت آ جائے اور خود دنیا کا خاتمہ ہو جائے۔

امت میں یہ دوسرے دور کا جو قتال وجود میں آیا، اس کا کوئی تعلق قرآن کے حکم قتال (الانفال، 8:39) سے نہیں ہے۔ یہ خود ساختہ نظریے کے تحت وجود میں آیا ہے۔ قرآن میں قتال کا

‹ Previous page Next page › Contents of October 2018 All issues

Printed page