Al-Risala · October 2018 · page 18

امت میں قتال

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۸، صفحہ ۱۸

حکم ختم فتنه (الانفال، 8:39) کے لیے تھا۔ اس کے برعکس، بعد کے زمانے میں جو قتال امت میں جاری ہوا، وہ مسلم رہنماؤں کے بیان کے مطابق ختم اعدا (to finish the enemies) کے لیے ہے۔ مگر ختم اعدا کے لیے جنگ کرنے کا کوئی تصور اسلام میں نہیں۔

قرآن کی صراحت کے مطابق، عداوت جنگ کا اشو نہیں ہے، بلکہ وہ دعوت کا اشو ہے۔ مسلمانوں کو اگر کوئی شخص یا گروہ بظاہر دشمن دکھائی دے تو اس سے وہ لڑائی نہیں چھیڑ سکتے۔ ان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اس پر پر امن انداز میں دعوت الی اللہ کا کام کریں۔ یہ حکم قرآن کی ایک آیت سے نہایت واضح طور پر معلوم ہوتا ہے: وَلاَ تَسْتَوَی الْحَسَنَةُ وَلاَ السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (41:34)۔ یعنی بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو، پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔

موجودہ زمانے میں مسلمان دشمنان اسلام کے نام سے جو مسلح جنگ چھیڑے ہوئے ہیں، وہ ہرگز قرآن یا اسلام کے مطابق نہیں ہے۔ یہ مسلمانوں کے اپنے خود ساختہ جواز (self-styled justification) کی بنیاد پر ہے۔ یہ لوگ قرآن وحدیث کی غلط تشریح کے ذریعے اس کو درست ثابت کر رہے ہیں۔ یہ طریقہ غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے۔

اسی غلط توجیہات کی بنیاد پر ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ ان متشددانہ کوششوں کا انجام بالکل برعکس صورت میں نکل رہا ہے۔ مسلمان مسلسل طور پر ذلت آمیز شکست کا تجربہ کر رہے ہیں۔ ان کوششوں کا بے نتیجہ ہونا، بلکہ کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter-productive) ثابت ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اللہ کی مرضی کے مطابق نہیں۔ کیوں کہ قرآن میں بار بار یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ اگر تم اللہ کے راستے میں کوشش کرو گے تو تمہاری کوشش اللہ کی نصرت سے ضرور کامیاب ہوگی۔ اس یقین دہانی کے باوجود مسلمانوں کا نا کام ہونا، اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ غلطی پر ہیں، اور غلطی کرنے والے کے لیے تو بہ ہے، نہ کہ اپنی غلطی کو مزید جاری رکھنا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2018 All issues

Printed page