Al-Risala · October 2018 · page 19

صلح پہلا آپشن

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۸، صفحہ ۱۹

صلح پہلا آپشن

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي اخْتِلَافٌ، أَوْ أَمْرٌ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ السِّلْمَ، فَافْعَلْ (مسند احمد، حدیث نمبر 695)۔ یعنی علی ابن ابی طالب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد عنقریب امت میں اختلافات ہوں گے، یا کچھ معاملات پیش آئیں گے۔ اگر تمہارے لیے ممکن ہو کہ تم صلح کو اختیار کرو، تو ضرور ایسا کرو۔ اس حدیث رسول میں بتایا گیا ہے کہ جب اختلاف پیدا ہو تو اس وقت دانش مند آدمی کے لیے پہلا آپشن (option) کیا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ فریق ثانی کی شرطوں کو قبول کرتے ہوئے اس سے صلح کرلی جائے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اجتماعی اختلافات کبھی معیار (ideal) کی بنیاد پر طے نہیں ہوتے۔ اختلاف کے معاملے میں انتخاب (option) دو بہتر کے درمیان نہیں ہوتا، بلکہ چھوٹے شر (lesser evil) اور بڑے شر (greater evil) کے درمیان ہوتا ہے۔ اگر آدمی چھوٹے شر پر راضی نہ ہو تو اس کے بعد اس کو جس چیز پر راضی ہونا پڑتا ہے، وہ بڑا شر ہے۔ اسی کو حضرت عمر نے خیر الشرین کہا ہے۔

دانش مند آدمی وہ ہے جو صلح کو بڑی چیز سمجھے، نہ کہ اپنے مفروضہ آئیڈیل کو۔ آدمی کو جاننا چاہیے کہ اجتماعی معاملات میں ہمیشہ صرف ایک چیز قابلِ عمل (workable) ہوتی ہے، اور وہ پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) ہے، نہ کہ آئیڈیل وزڈم (ideal wisdom)۔ آئیڈیل وزڈم وہ ہے جو اعلیٰ اصول کے مطابق درست نظر آئے۔ اس کے برعکس پریکٹیکل وزڈم وہ ہے، جو عملی طور پر قابلِ حصول ہو۔ موجودہ دنیا میں ہر انسان کو آزادی حاصل ہے، مگر آئیڈیل وزڈم اس دنیا میں قابلِ حصول نہیں، بلکہ اس دنیا میں جو چیز قابلِ حصول ہے، وہ صرف پریکٹیکل وزڈم ہے۔ اسی حقیقت کو جاننے کا نام دانش مندی ہے، اور اس حقیقت سے بے خبری کا نام بے دانشي۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2018 All issues

Printed page