Al-Risala · October 2018 · page 26

خدا کی دریافت

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۸، صفحہ ۲۶

خدا کی دریافت

جس دنیا کو ہم جانتے ہیں، اور جس دنیا میں ہم رہتے ہیں، وہ دنیا اسپیس اور ٹائم (space and time) کی دنیا ہے۔ ہماری تمام معلوم چیزیں اسی اسپیس اور ٹائم کے اندر پائی جاتی ہیں۔ ہم تمام معلوم چیزوں کو اسپیس اور ٹائم کی بنیاد پر جانتے ہیں۔ مثلاً فلاں چیز یہاں ہے، اور فلاں چیز وہاں ہے۔ فلاں چیز مغرب میں ہے، اور فلاں چیز مشرق میں ہے، وغیرہ۔ ہماری تمام معلوم کائنات اسی طرح اسپیس اور ٹائم کے حوالے سے ہماری دریافت کا حصہ بنتی ہے۔

ان تمام چیزوں میں جن کو ہم جانتے ہیں، یا جن کو ہم جاننا چاہتے ہیں، ان میں سے صرف ایک چیز استثناء کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ زمان و مکان سے سے ماورا (beyond space and time) ہے۔ یہ خدا ہے، جو کہ استثنا کی حیثیت رکھتا ہے۔ خدا کا یہی واحد استثنا ہونا، خدا کو سمجھنے، اور اس کو یقین کرنے میں مانع ہے۔ خدا کا beyond space and time ہونا، انسان کے لیے خدا پر یقین کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ قدیم عقلیات میں اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ جدید سائنسی عقلیات (scientific rationalism) میں پہلی بار اس کی بابت ایک امکان کی خبر ملی ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنس نے قیاس کے درجے میں اس کی خبر دی ہے۔ آئن سٹین کا نظریہ جنرل تھیری آف ریلیٹیوٹی (general theory of relativity) اسی سے تعلق رکھتا ہے۔ میٹر (matter) کی تلاش کے معاملے میں انسان جس آخری حد پر پہنچا ہے، وہ سب ایٹمک پارٹیکل (subatomic particle) ہے۔ سب ایٹمک پارٹیکل کی دریافت نے تھیری آف نالج میں انقلابی تبدیلی کی ہے۔ اب علم کی دنیا میں یہ مان لیا گیا ہے کہ سب ایٹمک پارٹیکل جو میٹر (matter) کی فائنل انٹیٹی (entity) ہے، وہ براہ راست طور پر قابل دریافت نہیں ہے۔ ہم صرف اس کی بالواسطہ دریافت تک پہنچ سکتے ہیں، جو کہ ایفیکٹ (effect) تک پہنچ کر ختم ہو جاتی ہے۔ نا قابل مشاہدہ سب ایٹمک پارٹیکل اپنی حرکت کے دوران میٹ (heat) پیدا کرتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2018 All issues

Printed page