Al-Risala · October 2018 · page 27

خدا کی دریافت

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۸، صفحہ ۲۷

جس کا یہ ناٹک طحہ حالة یہ ھِیٹ میٹر کا وہ ایفیکٹ ہے، جس کے ذریعے میڑ کا وجود دریافت ہوتا ہے۔ اسی طرح خالق (creator) کا ایفیکٹ (effect) مخلوق (creation) ہے۔ یہاں بھی مخلوق (creation) کے ذریعے بالواسطہ طور پر خالق (creator) کی دریافت ہوتی ہے۔ اس دریافت سے تھیری آف نالج میں ایک تبدیلی آئی ہے۔ اب امکانیات (probability) کو نالج تک پہنچنے کا ایک مستند س میں ایک ردیں اس ہے اب ائیا ( probability ) ورنہ (authentic) ذریعہ مان لیا گیا ہے۔ اب یہ کہا جا رہا ہے:

Probably there is this and that مزید یہ کہ y is less than certainty but more than perhaps Probability is less than certainty but more than perhaps. اب خدا میں یقین کی بنیاد یہ ہے کہ آدمی اپنے مائنڈ کو اتنا زیادہ ارتقا یافتہ (develop) اب مد میں ہیں۔ یہ یہ ہے پ ائِت، اِت، بنائے کہ وہ جب یہ کہے :

تو وہ اس قول کو اس حقیقت میں ڈھال سکے :

اب پرابیبلٹی (probability) کو سرٹینٹی (certainty) کی زبان میں دریافت کرنا ہے، جو شخص پرابیبلٹی کی زبان کو سرٹینٹی (certainty) میں ڈھال سکے، وہی صاحب یقین انسان ہے۔ کوئی انسان پرابیبلٹی کو سرٹینٹی (certainty) کے درجے میں کس طرح دریافت کرے، اس کا ذریعہ میتھڈ (method) کی تبدیلی نہیں ہے، بلکہ اس کا ذریعہ یہ ہے کہ آپ خود اپنے ذہن کو اتنا زیادہ ارتقا یافتہ بنائیں کہ آپ پراببیلٹی کو یقین (certainty) کے درجے میں دریافت کریں۔ یہ خود اپنے مائنڈ کو ڈیولپمنٹ کا معاملہ ہے، نہ کہ میتھڈ میں تبدیلی کا معاملہ۔ یہ منطق (logic) کو ری ڈیفائن (redefine) کرنے کا معاملہ ہے، جو شخص منطق کو ری ڈیفائن کر سکے، وہ اپنے یقین کو بحال کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ قدیم زمانہ یونانی لاجک کا زمانہ تھا، اور موجودہ زمانہ پ ہیں، یہ زمانہ رہا ہے، یہ باب ،بات ،مقدمہ | سائنٹفک لاجک کا زمانہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2018 All issues

Printed page