عقل مندی کی پہچان
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۴۹
ہے، جب کہ دنیا میں مکمل طور پر امن (peace) کا زمانہ آجائے گا۔ جب کہ یہ ممکن ہو جائے گا کہ کسی رکاوٹ کے بغیر توحید کی آئیڈیالوجی پر نان سیاسیل ایمپائر قائم کیا جا سکے۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ جب وہ دور آجائے تو امت محمدی کو چاہیے کہ وہ نفرت اور تشدد اور جنگ کی تمام صورتوں کو یک طرفہ طور پر ختم کر دے، اور پیدا شدہ مواقع کو پر امن طور پر استعمال کرتے ہوئے توحید کی بنیاد پر ایک نان پولیٹیکل ایمپائر (non-political empire) قائم کر دے۔
4۔ اسی طرح پیغمبر اسلام کی ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے : لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام (مسند احمد، حدیث نمبر 23865)۔ یعنی روئے زمین پر کوئی بھی چھوٹا یا بڑا گھر نہ بچے گا، مگر اس میں اللہ اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا۔
اس حدیث میں مستقبل کی امت محمدی کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ جب یہ دور آجائے تو تم اس دور کو پہچانو۔ اس وقت تم ان تمام سرگرمیوں کو بند کر دو، جس سے اس دور کے مواقع کو استعمال کرنا تمھارے لیے ناممکن ہو جائے۔ اس وقت تم یک طرفہ منصوبہ بندی کے ذریعہ آنے والے مواقع کو پر امن طور پر استعمال کرو، اور دین اسلام کو ہر گھر میں پہنچادو۔ یہ دور جب آئے گا تو وہ اپنے آپ سب کچھ نہیں کر ڈالے گا، بلکہ امت محمدی کو اس وقت کی ضرورت کے مطابق، دانش مندانہ منصوبہ بندی کرنی پڑے گی۔
5۔ دورِ دجال کی روایتوں میں سے ایک روایت وہ ہے جس میں دجال کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ دجال جب بولے گا، اس کی آواز مشرق ومغرب میں سنائی دے گی۔ چوتھے خلیفہ علی بن ابی طالب، پیغمبر اسلام کا نام لیے بغیر دجال کے بارے میں کہتے ہیں: ينادي بصوت له يسمع به ما بين الخافقين (كنز العمال، حدیث نمبر 39709)۔ یعنی وہ ایسی آواز میں پکارے گا، جو مشرق و مغرب کے درمیان سنائی دے گی۔
محدثین کی تقسیم کے مطابق یہ ایک موقوف روایت ہے۔ لیکن تاریخی اعتبار سے دیکھیے تو یہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues