عقل مندی کی پہچان
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۸، صفحہ ۴۸
موجود ہی نہ تھے، جن کو استعمال کر کے تمام اقوام عالم تک قرآن پہنچایا جائے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی اس آیت کا متضمن مفہوم (implied meaning) یہ ہے کہ مستقبل میں ایک ایسا زمانہ آئے گا، جب کہ مختلف زبانوں میں قرآن کے ترجمے تیار کر کے ان کو تمام قوموں تک ان کی قابل فہم زبانوں میں پہنچانا ممکن ہو جائے گا۔ اس وقت امت محمدی کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اس کا منصوبہ بنائے، اور اس کو اس کے تمام تقاضوں کے تحت انجام دے۔ ان الفاظ میں واضح طور پر اس دور کی طرف اشارہ ہے جب کہ دنیا میں پرنٹنگ پریس، اور کمیونی کیشن آچکا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ دور آ جائے تب امت محمدی پر اس دور کا استعمال برائے دعوت اسی طرح فرض ہو جائے گا جس طرح نماز اور روزہ ابدی طور پر فرض ہے۔
2۔ قرآن میں اس نوعیت کی ایک اور آیت ان الفاظ میں آئی ہے: سنريهم آياتنا في الآفاق وفي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الحقّ (41:53)۔ یعنی آئندہ ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ حق ہے۔ یہاں آفاق سے مراد مادی دنیا (material world) اور انفس سے مراد انسانی دنیا (human world) ہے۔
قرآن کی اس آیت میں آنے والے سائنسی دور کی طرف اشارہ ہے۔ اس میں امت محمدی کو یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ جب وہ سائنسی دور دنیا میں آجائے تو تم فوراً اس کو پہچان لینا، اور از سر نو سائنس کی دریافت کردہ حقائق کی روشنی میں اپنے دعوتی مشن کی منصوبہ بندی کرنا۔ تا کہ لوگوں کو ان کی اپنی مسلمہ عقلی بنیاد (rational ground) پر حقائق اسلام کا اظہار ہو جائے۔ 3۔ اسی طرح احادیث میں اس نوعیت کی مختلف پیشین گوئیاں آئی ہیں۔ مثلاً ایک روایت کے مطابق قدیم مکہ کے قریش کے مطالبے پر آپ نے بتایا تھا : كلمة واحدة تعطونيها تملكون بها العرب، وتدين لكم بها العجم (سیرت ابن ہشام، 1/417)
اس حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں اس آنے والے دور کی طرف اشارہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2018 All issues