کنڈیشننگ کا مسئلہ
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۸، صفحہ ۱۲
کنڈیشننگ کا مسئلہ
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: کُلُّ مَوْلُوْدٍ يُوْلَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، أَوْ يُنَصِّرَانِهِ، أَوْ يُمَجِّسَانِهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385)۔ یعنی ہر پیدا ہونے والا، فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ اس حدیث رسول میں زندگی کی ایک حقیقت کو تمثیل کی زبان میں بتایا گیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ حدیث ہر انسان کے لیے ہے، وہ صرف یہودی یا نصرانی یا مجوسی کے لیے نہیں ہے۔
علم نفسیات کے مطابق، ہر انسان کنڈیشننگ کا کیس ہوتا ہے۔ پیدا ہونے کے اعتبار سے وہ فطرت صحیح پر پیدا ہوتا ہے، لیکن پیدا ہوتے ہی وہ اپنے ماحول سے متاثر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اس اثر پذیری (conditioning) کا نتیجہ آخر کار یہ ہوتا ہے کہ ابتدا میں اگر وہ مسٹر نیچر (Mr. Nature) تھا تو جلد ہی بعد وہ مسٹر کنڈیشنڈ (Mr. Conditioned) کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ دھیرے دھیرے وہ ماحول سے متاثر ہو کر ماحول کا پروڈکٹ بن جاتا ہے۔
اس نفسیاتی حقیقت کا تقاضا ہے کہ ہر آدمی سب سے پہلے اپنے تاثر پذیری کو ختم کرے۔ وہ اپنے آپ کو مسٹر کنڈیشنڈ کی حالت سے نکال کر مسٹر ڈی کنڈیشنڈ (Mr. Deconditioned) بنائے۔ یہ عمل پہلے اس کے ماں باپ کو کرنا ہے، اور اس کے بعد خود ہر آدمی کا یہ کام ہے کہ وہ اس عمل کو اس کے تکمیلی مرحلے تک پہنچائے۔
کوئی انسان جب اپنی ماں کے پیٹ سے نکل کر باہر کی دنیا میں آتا ہے، تو وہ اپنی فطری حالت پر ہوتا ہے۔ پورے معنوں میں اس وقت وہ نیچر کا پروڈکٹ ہوتا ہے۔ لیکن پیدائش کے بعد اس کو جو دنیا ملتی ہے، وہ ایک بالکل مختلف دنیا ہوتی ہے۔ دنیا میں اس کو ایک انسانی کلچر کے درمیان رہنا پڑتا ہے۔ وہ ہر لمحہ اس خارجی دنیا سے متاثر ہوتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ جسمانی اعتبار سے اگرچہ بظاہر فطری انسان ہوتا ہے، لیکن عادات اور اپنی سوچ کے
‹ Previous page Next page › Contents of November 2018 All issues