Al-Risala · November 2018 · page 13

کنڈیشننگ کا مسئلہ

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۸، صفحہ ۱۳

اعتبار سے وہ ایک ایسا انسان بن جاتا ہے، جو پورے معنوں میں ماحول کی پیداوار (product) ہوتا ہے۔

انسان کا پہلا دور حیات وہ ہے، جب کہ وہ ماں کے پیٹ میں بن کر تیار ہوتا ہے۔ اس کا دوسرا دور حیات وہ ہے، جو ماں کے پیٹ کے باہر انسانوں کی تیار کی ہوئی دنیا میں بنتا ہے۔ اس دوسرے دور حیات میں ہر انسان کی پہلی ڈیوٹی یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو شعوری طور پر دریافت کرے۔ اس دریافت کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ آدمی اپنے اندر مطلوب شخصیت کی تعمیر کرے۔ وہ اپنے آپ کو مسٹرکنڈیشنڈ کی حالت سے نکال کر مسٹرڈی کنڈیشنڈ کی حالت میں پہنچائے۔ مسٹر ڈی کنڈیشنڈ بننا ایک سخت قسم کا تربیتی عمل ہے۔ اس تربیتی عمل کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے آدمی کو اپنا محاسب آپ بننا پڑتا ہے۔ اس عمل کی کامیابی کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ آدمی اپنے اندر اینٹی سیلف تھنکنگ (anti-self thinking) کی صلاحیت پیدا کرے، وہ اپنی ہیمرنگ (hammering) آپ کرنے کا فن جانے۔ وہ اپنا آئینہ خود اپنے آپ کو بنائے۔ اپنا محاسبہ آپ کے معاملے میں تربیت کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کا بے رحم محاسب بن جائے۔ اپنی تربیت کا آغاز خودی اور اسرار خودی کا فلسفہ جاننے سے نہیں ہوتا، بلکہ اپنی کمیوں کو جاننے سے ہوتا ہے۔ اپنی تعریف سننے سے نہیں ہوتا، بلکہ اپنے خلاف شدید تنقید سننے سے ہوتا ہے۔ اس عمل کو میں اپنے الفاظ میں سیلف ہیمرنگ (self hammering) سے تعبیر کروں گا۔ سیلف ہیمرنگ واحد عمل ہے، جو انسان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو کنڈیشننگ سے باہر لائے، وہ اپنے آپ کو کنڈیشننگ سے نکال کر ایک نیا انسان بنائے۔

ایک انسان وہ ہے جو ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے۔ لیکن یہی مکمل انسان نہیں۔ اس کے بعد انسان کا خود اپنا کام ہے کہ وہ اپنے کو فطرتِ خداوندی پر قائم کرے۔ یہ کام اسی وقت ہوسکتا ہے کہ جب انسان اپنا محاسب آپ بن جائے۔ اس کام کے بغیر ہر انسان ایک نامکمل انسان ہے، وہ مکمل انسان نہیں۔ یہ گویا اپنی تعمیر آپ کرنے کا کام ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2018 All issues

Printed page