Al-Risala · November 2018 · page 19

تزکیہ اور دعوت

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۸، صفحہ ۱۹

کوایزٹ از (as it is) عوام میں پھیلانا۔ قدیم کتابوں میں تفسیر قرآن کا جو پیٹرن پایا جاتا ہے، وہ درس و تدریس کے لیے موزوں ہے، لیکن اصلاح و تربیت کے لیے یہ پیٹرن موزوں نہیں۔ اصلاح و تربیت کے لیے جو پیٹرن مفید ہے، وہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے تطبیقی انداز (applied pattern)۔ اب ہم ایک نئے زمانے میں جی رہے ہیں، نئے زمانے کے لحاظ سے مفید پیٹرن صرف وہ ہے، جو نئے حالات میں پیدا ہونے والے اذہان کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ بعض حضرات، جنہوں نے قدیم پیٹرن کو بدلا، وہ صرف یہ تھا کہ انھوں نے فنی انداز کے بجائے سیاسی انداز (political pattern) اختیار کر لیا۔ اس قسم کی تبدیلی منفی نتائج تو پیدا کر سکتی تھی، لیکن مثبت نتائج کبھی بھی سیاسی پیٹرن سے حاصل نہیں کئے جاسکتے۔

مثلاً جن لوگوں نے تفسیر قرآن کا سیاسی پیٹرن اختیار کیا، انھوں نے یہ کیا کہ جہاد وقتال سے متعلق قرآن کی آیتوں کو برٹش ایمپائراور مغربی تہذیب پر منطبق کر کے پر زور تحریکیں چلائیں، اور سیاسی جدو جہد کو قرآن کا مطلوب کام قرار دیا۔ یہ اسلوب بلاشبہ آخری حد تک غیر متعلق (irrelevant) تھا۔ اس لیے اس کا مثبت نتیجہ نہ نکلنے والا تھا، اور نہ نکلا۔ اس کے برعکس، اگر یہ حضرات دعوت کا اسلوب اختیار کرتے تو یقیناً ان کی کوششوں کے مثبت نتائج برآمد ہوتے۔ مسلم رہنماؤں نے قرآن کے درس کا دعوتی انداز اختیار نہیں کیا۔ البتہ میرے علم کے مطابق ایک برطانوی مستشرق پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ نے 388 صفحات پر مشتمل ایک جامع کتاب تیار کی، جو دی پریچنگ آف اسلام (The Preaching of Islam) کے نام سے 1896 میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کا مقصد یہ تھا کہ اس زمانے کے مسلمانوں کو راغب کیا جائے کہ وہ اسلام کی اشاعت کے لیے پر امن دعوتی اسلوب کو اختیار کریں۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس درست مشورے کو کسی قابل ذکر آدمی نے اختیار نہیں کیا، بلکہ اس کو برطانی سازش کا حصہ سمجھ کر رد کر دیا۔ قرآن کی روشنی میں اسلام کا مقصد اصلاً صرف یہ ہے اپنے لیے تزکیہ اور دوسروں کے لیے دعوت الی اللہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2018 All issues

Printed page