Al-Risala · November 2018 · page 20

درسِ قرآن

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۸، صفحہ ۲۰

درسِ قرآن

قرآن میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا : وَلا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ (6:108)۔ یعنی اور اللہ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں، ان کو گالی نہ دو ورنہ یہ لوگ حد سے گزر کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں گے۔

اس آیت میں سب نہ کرنے کا یہ حکم اصحابِ رسول کو دیا گیا تھا۔ یہ بات واضح ہے کہ اصحابِ رسول مشرکین کے الہ کے خلاف سب وشتم کی زبان استعمال نہیں کر سکتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین کے الہ کے خلاف ایسی باتیں کہنے سے بچا جائے، جو ان کے نزدیک شتم کے ہم معنی ہو، جس کو سن کر وہ اشتعال انگیزی کرنے لگیں۔ جب ایسا ہوگا تو اس کے جواب میں تم بھی کچھ کہو گے۔ اس طرح چین ری ایکشن (chain reaction) شروع ہو جائے گا۔ اور پھر یہ ہوگا کہ دعوتِ الی اللہ کا کام ہونے کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف ضد، اور نفرت، اور تشدد شروع ہو جائے گا۔ اس طرح دعوت کا پر امن ماحول ختم ہو جائے گا۔ اس لیے اس غیر مطلوب انجام سے بچو تاکہ دعوت کا کام معتدل انداز میں جاری رہے۔

قرآن کے اس طریقہ درس کو اپلائیڈ (applied) درسِ قرآن کہا جاسکتا ہے۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ درسِ قرآن کے حلقوں میں یہ انداز اختیار نہیں کیا جاتا۔ اس لیے درسِ قرآن کو سن کر عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر غیر مطلوب مزاج پیدا ہو جاتا ہے، یا عدم وضوح کی بنا پر سرے سے کوئی مزاج ہی نہیں بنتا۔ درسِ قرآن ایک خالص مثبت کام ہے۔ اس کو وضوح (clarity) کی زبان میں ہونا چاہیے۔ یہ کام مؤثر انداز میں صرف اس وقت ہو سکتا ہے، جب کہ لوگوں کے اندر تیار ذہن موجود ہو۔ ورنہ لوگ درس کو خود اپنے ذہن کے ساتھ سنیں گے، اور ہر درس ان کے لیے خود اپنے کنڈیشنڈ ذہن کی تقویت کا ذریعہ بن جائے گا۔ درسِ قرآن کا مقصد برکت کا حصول نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ لوگوں کو واضح ہدایت ملے۔ لوگ اپنے روزمرہ کے مسائل میں روشنی حاصل کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2018 All issues

Printed page