دعا، شعور دعا
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۸، صفحہ ۲۲
دعا، شعور دعا
دعا اسلام میں ایک عظیم عمل ہے۔ دعا کے بارے میں حدیث میں مختلف الفاظ آئے ہیں۔ مثلاً بے شک دعا ہی عبادت ہے (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3828)۔ ایک روایت کا ترجمہ یہ ہے: دعا عبادت کا مغز (مُخّ) ہے (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3371)۔ ایک روایت میں یہ ہے: لَا یَرُدُّ الْقَدَرَ إِلَّا الدُّعَاءُ (مسند احمد، حدیث نمبر 22044)۔ یعنی تقدیر کو دعا ٹال دیتی ہے۔ ایک حدیث کا ترجمہ یہ ہے: دعا مومن کا ہتھیار (الدُّعَاءُ سِلَاحُ المُؤْمِنِ) ہے، دین کا ستون ہے، اور آسمانوں اور زمین کا نور ہے (مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 1812)۔ ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں: الدُّعَاءُ يَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ يَنْزِلْ ، فَعَلَيْكُمْ بِالدُّعَاءِ عِبَادَ الله (مسند احمد، حدیث نمبر 22044)۔ یعنی دعا فائدہ دیتی ہے، ان چیزوں میں جو نازل ہوئی ہے، اور ان میں بھی جو نہیں ہوئی، تو اللہ کے بندو، تم ضرور دعا کرو۔ مگر دعا صرف الفاظ دعا کی تکرار کا نام نہیں ہے۔ بلکہ دعا کے ساتھ دعا کرنے والے کے اندر ایک پراسس شروع ہو جاتا ہے۔ مثلاً بندے اور خدا کے درمیان مناجات، بندے کے اندر رب کی یاد، بندے کی روحانیت میں اضافہ، بندے کے اندر ایمانی ارتقا، اپنے رب سے قربت، وغیرہ۔ اس پورے عمل کو ایک لفظ میں حَرکیات دعا (dynamics of dua) کہا جا سکتا ہے۔ یہاں تک کہ کبھی اللہ جبربیل سے کہہ دیتا ہے کہ اے جبریل میرے بندے کی دعا قبول کرنے میں جلدی نہ کر۔ کیوں کہ مجھے اس کی آواز پسند ہے۔ یعنی بندے کے اندر دعا کا عمل اضافہ پذیر حالت میں جاری ہے۔ قرآن و حدیث کے حوالے سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا صرف مانگنے اور پانے کا نام نہیں، بلکہ دعا روحانی ارتقا کا ایک عمل ہے۔ کامیاب دعا وہ ہے، جس کے اندر دعا کا شعور شامل ہو۔ کامل دعاوہ ہے، جو اعلیٰ ذہنی ارتقا کے نتیجہ میں ظہور میں آئے۔ کامل دعاوہ ہے، جس میں بندہ صرف اپنی حاجت کو نہ جانے، بلکہ وہ اپنے رب کی معرفت حاصل کرے ۔ حقیقی دعا وہی دعا ہے، جب کہ دعا بندہ عارف کے لیے ایک اعلیٰ تجربہ کی حیثیت اختیار کر لے، جب کہ بندے کا وجود خود بھی دعا میں ڈھل گیا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2018 All issues