Al-Risala · November 2018 · page 23

فضیلت کا تصور

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۸، صفحہ ۲۳

فضیلت کا تصور

کسی عمل کے افضل عمل ہونے کا تصور قرآن میں موجود نہیں ہے۔ قرآن کے مطابق، کوئی عمل اپنی داخلی اسپرٹ کے اعتبار سے بڑا عمل ہو سکتا ہے، محض فارم کے اعتبار سے کوئی عمل بڑا عمل نہیں۔ عمل پر فضیلت کا ذکر حدیث میں آیا ہے، لیکن وہ زیادہ مستند نہیں۔ خود محدثین کے اعتراف کے مطابق فضیلت کی روایتوں کو زیادہ قابلِ اعتماد نہیں سمجھا جا سکتا۔

جیسا کہ معلوم ہے محدثین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی روایت کو لینے کے بارے میں بہت زیادہ سخت ہیں۔ مثلاً امام بخاری نے 600,000 حدیثیں جمع کی، لیکن اپنی مشہور کتاب صحیح البخاری میں انھوں نے ان میں سے صرف کچھ ہزار احادیث کو لیا، جن کی تعداد ابن الصلاح اور النووی کے مطابق 7275 ہے۔ مگر فضیلت کی روایتوں کے بارے میں محدثین نے ایسا رویہ اختیار نہیں کیا۔ تیسری صدی ہجری کے مشہور محدث عبد الرحمن ابن مہدی (وفات: 198ھ) نے محدثین کے مسلک کو بیان کرتے ہوئے کہا: إِذَا رَوَيْنَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَلَالِ، وَالْحَرَامِ، وَالْأَحْكَامِ، شَدَّدْنَا فِي الْأَسَانِيدِ، وَانْتَقَدْنَا الرِّجَالَ، وَإِذَا رَوَيْنَا فِي فَضَائِلِ الْأَعْمَالِ وَالثَّوَابِ، وَالْعِقَابِ، وَالْمُبَاحَاتِ، وَالدَّعَوَاتِ تَسَاهَلْنَا فِي الْأَسَانِيدِ (مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 1801)۔ یعنی جب ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حلال و حرام اور احکام کی روایتیں لیں، تو ہم نے اسانید کے معاملے میں سختی سے کام لیا، رجال پر نقد کیا، اور جب ہم نے فضائل اعمال، ثواب و عقاب، مباحات و دعا کی روایتیں بیان کی تو اس کی اسناد میں تساہل سے کام لیا۔ دو قسم کی حدیثوں کے معاملے میں محدثین کا یہ مسلک علمی اعتبار سے نا قابل تسلیم ہے۔ اس لیے کہ جب کسی قول کو حدیث رسول بتایا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ قول امت کے لیے یکساں طور پر رسول اللہ کا قول بن جاتا ہے۔ خواہ وہ ایک حکم کے بارے میں ہو یا دوسرے حکم کے بارے میں۔ ایسی حالت میں کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ حدیث کے معاملے میں اس قسم کی تفریق کو درست قرار

‹ Previous page Next page › Contents of November 2018 All issues

Printed page