دین کے تقاضے
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۸، صفحہ ۲۶
دین کے تقاضے
قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو ایک مسلم کے لیے متعین طور پر دین کے تین تقاضے معلوم ہوتے ہیں ۔ وہ تین تقاضے یہ ہیں— (1) معرفت ، (2) اقامت ، (3) شہادت ۔ یہ تینوں تقاضے قرآن اور حدیث میں واضح طور پر موجود ہیں۔ اس سلسلے میں یہاں قرآن کی کچھ آیتیں نقل کی جاتی ہیں۔ (1) معرفت کے سلسلے میں قرآن کی متعلق آیات یہ ہیں : وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ۔ وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا جَاءَنَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَنْ يُدْخِلَنَا رَبَّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِينَ (5:83-84)۔ یعنی اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں ، اس سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا ۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے ، رب ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے ۔ اور ہم کیوں نہ ایمان لائیں اللہ پر اور اس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے جب کہ ہم یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ شامل کرے۔
ایک شخص کے لیے ایمان کا آغاز یہ ہے کہ وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ قرآن کا مطالعہ کرے۔ اس مطالعے کے ذریعہ اس کو اسلام کی معرفت (دریافت) حاصل ہو۔ یہ معرفت اتنی گہری ہو کہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑیں۔ اس کا ذہن اس طرح ایڈریس ہو کہ اس کو محسوس ہو کہ میں نے اپنی تلاش کا جواب پالیا ہے۔ یہ دریافت اتنی گہری ہو کہ وہ اس کی سچائی کا گواہ بن جائے۔ (2) اقامت دین کے سلسلے میں قابل مطالعہ آیت یہ ہے : شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّى بِهِ نُوحاً وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ (42:13)۔ یعنی اللہ نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا اس نے نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی وحی ہم نے تمہاری طرف کی ہے اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم کو اور موسیٰ کو اور
‹ Previous page Next page › Contents of November 2018 All issues