حدیث جبریل کا پیغام
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۸، صفحہ ۲۵
حدیث جبریل کا پیغام
حدیث کی کتابوں میں ایک حدیث، حدیثِ جبریل کے نام سے مشہور ہے، معروف سعودی عالم ابن عثیمین نے تحقیق کر کے بتایا ہے کہ حدیثِ جبریل کا واقعہ مدینہ میں پیش آیا تھا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ وہ زمانہ اہل اسلام کے لیے ہر اعتبار سے مظلومیت کا زمانہ تھا۔ جن چیزوں کو آج مظلومیت کا نام دیا جاتا ہے، وہ سب وہاں پورے معنوں میں موجود تھے، مگر آپ حدیثِ رسول کے مطابق دیکھیے تو اس میں مظلومیت کا کوئی ادنیٰ اشارہ آپ کو نہیں ملے گا۔ اس حدیث میں اسلام، ایمان، احسان، اور علامات قیامت کا ذکر ہے، لیکن مظلومیت کا اشارے کے درجے میں بھی کوئی ذکر نہیں۔ حالاں کہ حدیث میں رسول اللہ کی زبان سے یہ الفاظ ہیں : ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ أَمْرَ دِينِكُمْ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2610)۔ یعنی وہ جبریل تھے، جو آئے تا کہ تم کو تمھارے دین کی تعلیم دیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مظلومیت کی بات امر دین میں سے نہیں ہے۔ اس کا تعلق قومی شکایت سے ہو سکتا ہے، لیکن خدا اور رسول کے دین سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ موجودہ زمانے میں مفروضہ مظلومیت کے حوالے سے مسلمان اپنے مفروضہ ظالموں کے خلاف جو بد دعائیں کرتے ہیں، ان کا بھی دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اسی طرح موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا حال دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ براہِ راست طور پر جبریل کی شرکت سے جو اجتماع مدینہ میں ہوا تھا، اس میں سب سے زیادہ اہمیت کے ساتھ خلافت کے موضوع پر تذکرہ ہونا چاہیے تھا۔ لیکن آپ حدیثِ جبریل کو بار بار پڑھیے، آپ حیرت انگیز طور پر یہ دیکھیں گے کہ اس حدیث میں اشارہ اور کنایہ کے انداز میں بھی خلافت کے مسئلے کا کوئی ذکر نہیں۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خلافت کا معاملہ مسلمانوں کی اپنی ایجاد ہے، نہ کہ دینِ اسلام کا کوئی حکم یا تقاضا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2018 All issues