Al-Risala · November 2018 · page 29

خدا کی پہچان

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۸، صفحہ ۲۹

نگاہوں کا ادراک کرتا ہے۔ وہ بڑا باریک بیں اور بڑا با خبر ہے۔ اس کے بعد یہ آیت پڑھی: اور کسی آدمی کی یہ طاقت نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے، مگر وحی کے ذریعہ سے یا پردے کے پیچھے سے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان اپنے خالق کو براہ راست طور پر دیکھ نہیں سکتا۔ مگر انسان یقینی طور پر دیکھنے جیسے تجربہ کے ذریعہ خالق کے وجود پر یقین حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے لیے خالق نے ایک ماڈل پیدا کیا ہے۔ یہ ماڈل یقین بغیر رویت (conviction without observation) کا ماڈل ہے۔ یہ ماڈل وہی ہے، جس کو ہم ماں (mother) کہتے ہیں۔ ہر انسان کامل یقین کے ساتھ اپنی ماں کو ماں سمجھتا ہے، حالاں کہ کسی نے بھی یہ نہیں دیکھا کہ وہ اپنے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر بچہ پیدا ہونے کے وقت بظاہر آنکھ لے کر پیدا ہوتا ہے، لیکن پیدائش کے وقت وہ اپنی آنکھ سے کسی چیز کو دیکھنے کے قابل نہیں ہوتا۔

ماں کا تجربہ ہر انسان کے لیے ایک معلوم ماڈل ہے۔ کوئی بھی انسان اس ماڈل سے بے خبر نہیں۔ اس ماڈل کی صورت میں ہر پیدا ہونے والا انسان، عورت ہو یا مرد، یہ جانتا ہے کہ فلاں عورت میری ماں ہے۔ یہ یقین ایک ایسے ماڈل کے ذریعہ ہوتا ہے، جو ہر مشاہدے سے بلند ہے۔ یہ ماڈل ہے یقین بغیر رویت (conviction without observation) کا ماڈل۔ یہ ماڈل اتنا زیادہ یقینی ہے کہ کوئی شخص اپنی فطرت پر قائم رہتے ہوئے، اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ اسی لیے حضرت عائشہ نے وہ بات کہی، جو مذکورہ روایت کی صورت میں حدیث کی کتابوں میں موجود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ماڈل اتنا زیادہ مبنی بر حق ماڈل ہے کہ ایک سچا مومن اس کو سنے تو اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ اس ماڈل کے باوجود عورت یا مرد یہ مطالبہ کرے کہ خدا اگر ہے تو اس کو مجھے براہ راست دکھاؤ۔ یہ مطالبہ اتنا زیادہ بے بنیاد اور اتنا زیادہ غیر منطقی (illogical) ہے کہ اس کو سن کر ایک سچے انسان کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ اس کے بدن پر لرزہ طاری ہو جائے، وہ کھڑا ہے تو گر پڑے، وہ بول رہا ہے تو خاموش ہو جائے، اس کی زبان بولنے سے عاجز ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2018 All issues

Printed page