Al-Risala · November 2018 · page 30

عصری اسلوب، غیر عصری اسلوب

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۸، صفحہ ۳۰

عصری اسلوب، غیر عصری اسلوب

ایک صاحب نے یہ سوال کیا ہے کہ اسلام کا عصری اسلوب کیا ہے، اور غیر عصری اسلوب کیا ہے۔ اس کی وضاحت فرمائیں۔ (حافظ سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تامل ناڈو) اس سوال کا جواب یہ ہے کہ عصری اسلوب کسی نئے اسلوب کا نام نہیں ہے۔ یہ در حقیقت قدیم مسئلے کو جدید الفاظ میں بیان کرنا ہے۔ یہ وہی چیز ہے، جس کو سابق مہتمم دار العلوم دیو بند، مولانا قاری محمد طیب صاحب (1983-1897ء) نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا: مسائل قدیم ہوں، اور دلائل جدید ہوں۔ قاری محمد طیب صاحب کا یہ جواب بالکل صحیح جواب تھا۔ کیوں کہ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ بیان کرنے کا اسلوب بدلتا ہے، جہاں تک اصل بات کا تعلق ہے، وہ بدستور اپنی اصل حالت پر باقی رہتی ہے۔

مثال کے طور پر گرہن (eclipse) کا واقعہ لیجیے۔ زمین پر سورج گرہن اس وقت لگتا ہے جب چاند دوران گردش زمین اور سورج کے درمیان آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے سورج کا مکمل یا کچھ حصہ دکھائی دینا بند ہو جاتا ہے۔ اسی طرح زمین کا وہ سایہ جو زمین کی گردش کے باعث کرہ زمین کے چاند اور سورج کے درمیان آجانے سے چاند کی سطح پر پڑتا ہے اور چاند تاریک نظر آنے لگتا ہے۔ یہی چاند گرہن کہلاتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ زمین اور چاند تاریک کرے ہیں۔ اور یہ دونوں سورج سے روشنی حاصل کرتے ہیں۔ زمین سورج کے گرد اپنے مدار پر گھومتی ہے اور چاند زمین کے گرد اپنے مدار پر گھومتا ہے۔ یہ سال میں دو مرتبہ ایک دوسرے کے سامنے آجاتے ہیں جس سے ایک کا سایہ دوسرے پر پڑتا ہے۔ چاند پر سایہ پڑتا ہے تو چاند گرہن اور سورج پر پڑتا ہے تو سورج گرہن کہلاتا ہے۔ رسول کے زمانے میں ایک بار گرہن کا واقعہ پیش آیا، اتفاق سے اسی دن رسول اللہ کے صاحبزادے ابراہیم کی وفات ہوئی تھی۔ اس وقت لوگوں نے قدیم ذہن کے تحت کہا کہ یہ گرہن پیغمبر

‹ Previous page Next page › Contents of November 2018 All issues

Printed page