Al-Risala · November 2018 · page 31

عصری اسلوب، غیر عصری اسلوب

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۸، صفحہ ۳۱

کے بیٹے کی وفات کی وجہ سے لگا ہے۔ رسول اللہ کو معلوم ہوا تو آپ نے لوگوں کو مسجد میں اکٹھا کیا، اور کہا: اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللَّهَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5197)۔ یعنی سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ دونوں گرہن زدہ نہیں ہوتے ہیں کسی کی موت یا زندگی پر۔ جب تم اس کو دیکھو تو اللہ (کی قدرت) کو یاد کرو۔

رسول اللہ نے جس بات کو آیت کی زبان میں بیان کیا تھا، اسی کو آج معنی خیز الائنمنٹ (alignment) کی زبان میں بیان کیا جائے گا۔ یعنی گرہن کا واقعہ تین متحرک باڈی (سورج، زمین، چاند) کے ایک سیدھ میں آجانے کی بنا پر پیش آتا ہے۔ بیک وقت تین متحرک غیر مساوی کروں کا معنی خیز انداز میں ایک سیدھ میں آجانا، بلاشبہ خالق کائنات کا ایک انوکھا معجزہ ہے، اور اس اعتبار سے وہ ایک عظیم نشانی ہے۔

☆☆☆☆☆☆☆

موجودہ دنیا اس ڈھنگ پر بنی ہے کہ یہاں ہمیشہ مسائل موجود رہتے ہیں۔ مسائل، زندگی کا ایک ایسا حصہ ہیں جن کو کسی بھی حال میں زندگی سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی حالت میں صحیح طریقہ یہ نہیں ہے کہ مسائل سے بے فائدہ طور پر لڑائی جاری رکھی جائے، بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ حُسن تدبیر سے مسائل کو مواقع میں تبدیل کر دیا جائے۔ پیغمبر اسلام کی پوری زندگی حُسنِ تدبیر کی مثال ہے۔ اس معاملے کی تفصیل جاننے کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتابــــ مطالعہ سیرت:

The Prophet Muhammad: A Simple Guide to His Life

‹ Previous page Next page › Contents of November 2018 All issues

Printed page