مذہبی انتہا پسندی
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۸، صفحہ ۳۴
مذہبی انتہا پسندی
مذہبی انتہا پسندی (religious extremism) کیا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی دراصل نتیجہ ہے شفٹ آف ایمفیسس (shift of emphasis) کا۔ مذہب کی ایک اسپرٹ ہے۔ مثلاً نماز کی اسپرٹ خشوع ہے۔ خشوع پر خواہ جتنا زیادہ زور دیا جائے، اس سے مسائل نہیں پیدا ہوں گے۔ اسی کے ساتھ مذہب کا ایک فارم ہے۔ مثلاً رفع یدین اور ترک رفع یدین، یہ مسئلہ فارم کا مسئلہ ہے۔ اس پر اگر زور دیا جائے تو لوگوں میں شدید اختلاف پیدا ہو جائے گا۔ یعنی مذہب کی اسپرٹ پر اگر زور دیا جائے تو اس سے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ لیکن اگر مذہب کے فارم پر زور دیا جانے لگے تو اس سے مذہبی انتہا پسندی پیدا ہوگی، جو بڑھ کر تشدد کی صورت اختیار کرلے گی۔ اسلام کی تاریخ میں اس کی مثال یہ ہے کہ فقہ میں عبادت کے فارم پر زور دیا گیا تو اس سے مختلف فقہی مسالک بن گئے ۔ جو بڑھتے بڑھتے متشددانہ فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ دوسری مثال، اس کے مقابلے میں یہ ہے کہ صوفیانے عبادت کی اسپرٹ پر زور دیا۔ مگر تصوف کے حلقوں میں انتہا پسندی نہیں آئی۔ حالاں کہ یہاں بھی تصوف کے مختلف حلقے اور گروہ موجود تھے۔
قرآن کو آپ پڑھیں تو قرآن میں سارا زور اسپرٹ پر دکھائی دے گا، فارم پر نہیں۔ بلکہ قرآن میں فارم کا ذکر اتنا کم ہے، گویا کہ نہیں ہے۔ اس لیے قرآن کی بنیاد پر فرقے نہ بن سکے، جب کہ فقہ کی بنیاد پر کثرت سے فرقے بن گئے۔
اس مذہبی انتہا پسندی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ عقیدہ کے معاملہ میں تکفیر اور تفسیق کا طریقہ رائج ہو جائے۔ ایک عقیدہ والے کو کافر بتایا جائے، اور دوسرے عقیدہ والے کو مسلم کہا جائے۔ یہ بھی شفٹ آف ایمفیسس (shift of emphasis) کی ایک صورت ہے۔ چنانچہ جن لوگوں نے ایسا کیا، انھوں نے مسلم ملت میں کوئی تعمیری اضافہ تو نہیں کیا۔ البتہ ایک گروہ کو کافر بتانا اور دوسرے گروہ کو مشرک بتانے کے طریقہ نے ملت واحدہ کو امت متفرقہ بنا دیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2018 All issues