مذہبی انتہا پسندی
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۸، صفحہ ۳۵
مذہب کے دائرہ میں اختلافات اسی طرح پیدا ہوتے ہیں، جس طرح زندگی کے دوسرے دائروں میں۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ اختلاف کو ڈسکشن اور ڈائیلاگ کا موضوع بنایا جائے ، نہ کہ رد و قبول کا موضوع۔ اختلاف کے معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کو آزادی رائے ( freedom of expression) کا ظاہرہ سمجھا جائے ، نہ کہ حق و باطل کا ظاہرہ۔
حقیقت یہ ہے مذہب کا ایک فارم ہے اور ایک اس کی اسپرٹ ہے۔ جب مذہب کے فارم پر زور دیا جائے تو اس سے مذہبی انتہا پسندی (religious extremism) پیدا ہوتی ہے۔ اب کچھ لوگ ایک فارم پر زور دیتے ہیں ، اور کچھ لوگ دوسرے فارم پر۔ اسی سے مذہبی انتہا پسندی ہوتی ہے، جو بڑھ کر تشدد تک پہنچ جاتی ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ مذہب میں سارا زور اسپرٹ پر دیا جائے ۔ اسپرٹ اصل ہو ، اور فارم کی حیثیت اضافی ہو۔ جب ایسا ہو تو مذہب میں رواداری (tolerance) آئے گی ۔ لوگ فارم کے اختلاف کے بارے میں توسع پسند بن جائیں گے۔ ان کا ذہن یہ ہوگا کہ یہ بھی ٹھیک ہے، وہ بھی ٹھیک ہے۔ مثلاً نماز میں آمین بالسر بھی ٹھیک ہے، اور آمین بالجہر بھی ٹھیک ہے۔ اس توسع پسندی سے لوگوں میں رواداری آئے گی ، اور انتہا پسندانہ مزاج کا خاتمہ ہوگا۔ پہلے زمانے میں مذہبی انتہا پسندی کا مزاج زیادہ تر فقہی مسائل کے بارے میں ہوتا تھا۔ موجودہ زمانے میں یہ مسئلہ سیاست تک پھیل گیا ہے۔ سیاست میں اگر یہ مزاج ہو کہ ایک سیاسی ڈھانچہ بھی ٹھیک ہے، اور دوسرا سیاسی ڈھانچہ بھی ٹھیک ہے۔ مثلاً سیاسی نظام میں انتخابی ڈھانچہ بھی درست ہے، اور غیر انتخابی ڈھانچہ بھی درست تو لوگوں کے اندر سیاسی رواداری پیدا ہوگی ۔ اور اگر لوگوں کے اندر یہ مزاج بنا دیا جائے کہ ایک سیاسی ڈھانچہ صحیح ہے، اور دوسرا سیاسی ڈھانچہ غلط۔ اس کے نتیجے میں سیاسی عدم رواداری پیدا ہوگی، جو آخر کار تشدد تک پہنچ جائے گی۔ ************ یہ فطرت کا قانون ہے کہ منفی عمل سے کبھی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوسکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2018 All issues