باقی ماندہ پر پلاننگ
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۸، صفحہ ۳۸
تھی ۔ اس وقت قریش مکہ نے کعبہ کو دوبارہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن جب قریش نے کعبہ کی تعمیر کا کام کیا تو انھوں نے کعبہ کی ابراہیمی عمارت میں سے دو تہائی حصے پر ہی کعبہ کی عمارت بنائی ، اور بقیہ ایک تہائی حصہ خالی چھوڑ دیا۔ اسی خالی حصے کو حطیم کہا جاتا ہے۔ موجودہ کعبہ کی عمارت قریش مکہ کے تعمیر کے مطابق ہے۔
پیغمبر اسلام کو 8 ہجری میں مکہ پر فتح حاصل ہوئی، تو آپ نے کعبہ کی اس تعمیر کو بدستور باقی رکھا، جو قریش مکہ نے کی تھی (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 1584؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1333)۔ اب ساری دنیا کے حاجی جس کعبہ کا طواف کرتے ہیں، وہ پیغمبر ابراہیم اور پیغمبر اسماعیل کا تعمیر کردہ ابتدائی کعبہ نہیں ہے، بلکہ اصل کعبہ کا باقی ماندہ پارٹ ہے، جس کو قریش مکہ نے حالت شرک میں تعمیر کیا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پورے مشن میں اسی اصول کی پیروی کی۔ پیغمبر اسلام کو جب مکہ سے ہجرت کرنا پڑا، اور مدینہ کو آپ نے اپنا مرکز بنایا تو یہ گویا ارض مقدس کے باقی ماندہ حصہ (remaining part) کی بنیاد پر اپنے مشن کو جاری رکھنا تھا۔ یہ طریقہ نتیجہ کے اعتبار سے نہایت کامیاب رہا۔ پیغمبر اسلام کو جب حالات کے تحت مکہ کو چھوڑ کر مدینہ جانا پڑا، اس وقت آپ نے شکایت کی کوئی بات نہیں کہی، بلکہ آپ نے برعکس طور پر یہ کہا: أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى، يَقُولُونَ يَثْرِبُ ، وَهِيَ المَدِينَةُ (صحیح البخاری ، حدیث نمبر (1871)۔ یعنی مجھے ایک بستی کا حکم دیا گیا، جو بستیوں کو کھا جائے گی، لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں، اور وہ مدینہ ہے۔ اس حدیث میں مدینہ کا حوالہ شہر مدینہ کی فضیلت کے طور پر نہیں ہے، بلکہ وہ باقی ماندہ پر پلاننگ کی اہمیت کے طور پر ہے۔ یعنی مکہ سے ہجرت کے بعد جو کچھ ملے گا، وہی ساری دنیا میں خدائی مشن کے پھیلنے کا ذریعے بنے گا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ بتاتی ہے کہ مدینہ آکر یہاں کے آزادانہ ماحول میں آپ نے اپنے مشن کی ری پلاننگ (replanning) کی۔ یعنی باقی ماندہ حصہ (remaining part) کی بنیاد پر پلاننگ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ طریقہ نہایت کامیاب رہا۔ باقی ماندہ پر پلاننگ (planning on the remaining part) کے اصول کی یہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 2018 All issues