باقی ماندہ پر پلاننگ
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۸، صفحہ ۳۹
ایک مذہبی مثال تھی۔ اگر گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو سیکولر تاریخ میں فطرت کے اس اصول کی مثالیں موجود ہیں۔ حالیہ تاریخ میں اس کی ایک کامیاب مثال جرمنی کی ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے، دوسری عالمی جنگ (1945-1939) ہوئی تو جرمنی اس جنگ کا سب سے زیادہ سرگرم ممبر تھا۔ مگر جنگ ختم ہوئی تو جرمنی ایک شکست خوردہ ملک تھا۔ حتیٰ کے جرمنی نے اپنے ملک کا ایک تہائی حصہ کھو دیا تھا، جواب ایسٹ جرمنی کے نام پر اس کے دشمنوں کے قبضے میں جا چکا تھا۔ مگر جنگ کے بعد جرمنی نے ایسا نہیں کیا کہ جرمنی کے کھوئے ہوئے حصہ کو پانے کے لیے نفرت اور تشدد کا ایک نیا سلسلہ شروع کردے۔ اس کے برعکس، یہ ہوا کہ جرمنی نے اپنے باقی ماندہ حصہ (remaining part of Germany) کو اپنی توجہ کا مرکز بنا لیا۔ اس نے پوری یکسوئی کے ساتھ ویسٹ جرمنی کی تعمیر نو شروع کردی۔ یہاں تک کہ بہت جلد یہ انقلابی واقعہ پیش آیا کہ جرمنی ایک نئی صنعتی طاقت بن کر ابھرا۔ یہاں تک کہ یورپ کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک بن گیا۔ موجودہ زمانے کے مسلم رہنما تقریباً سب کے سب شکایت اور احتجاج کی بولی بولنے میں لگے ہوئے ہیں۔ وہ یہ اعلان کر رہے ہیں کہ وہ دوسری قوموں کے ظلم کا شکار ہیں۔ ان کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں، اور اس بنا پر وہ آج کی دنیا میں اپنا جائز مقام پانے سے محروم ہو گئے ہیں۔ مظلومیت پر فریاد کا یہ ذہن اتنا عام ہے کہ شاید پوری مسلم دنیا میں اس میں کوئی استثنا نہیں ہے۔ مگر اصل واقعہ اس کے برعکس ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے نہ کعبہ کے پیغام کو اپنایا، اور نہ قوموں کی سیکولر تاریخ سے سبق سیکھا۔
مسلمان موجودہ زمانے میں جس محرومی کی شکایت کر رہے ہیں، اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے خود اپنی غفلت کی قیمت ادا کرنا۔ یعنی مسلمانوں نے یہ نہیں کیا کہ وہ حاصل شدہ حصہ کو لے کر اپنی قومی تعمیر کی پلاننگ کریں۔ بلکہ جو کچھ ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، ان کو لے کر وہ پلاننگ کر رہے ہیں۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ پیش آرہا ہے، وہ صرف اسی غلطی کا نتیجہ ہے۔ وہ ہر گز کسی کی دشمنی یا سازش کا نتیجہ نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2018 All issues