Al-Risala · November 2018 · page 40

دو قسم کے مسئلے

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۸، صفحہ ۴۰

دو قسم کے مسئلے

اجتماعی زندگی میں جو مسئلے پیش آتے ہیں، وہ عام طور پر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ مبنی بر غصہ، مبنی بر انٹرسٹ۔ یک قسم کا مسئلہ وہ ہے، جو اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ آپس کے تعلقات میں کبھی کوئی بات ایک شخص کو بری لگتی ہے، اور وہ افنڈ (offend) ہو جاتا ہے۔ ایسا غصہ ہمیشہ وقتی ہوتا ہے۔ آپ صرف یہ کیجیے کہ اعراض (avoidance) کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے وقت گزرنے دیجیے۔ وقت کے گزرنے پر وہ اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ وہ ایسا ہو جائے گا، جیسے کہ وہ تھا ہی نہیں۔ ایسے مسئلے کے لیے صرف یہ کافی ہے کہ آدمی وقتی طور پر چپ ہو جائے۔ جو مسئلہ صرف چپ ہو جانے سے ختم ہو جانے والا ہو، اس میں الجھ کر انسان کیوں اس کو سنجیدہ انداز میں لے، اور اس کو لمبا بنائے۔ دوسرا مسئلہ وہ ہے جو مبنی بر انٹرسٹ ہوتا ہے۔ یعنی ایک آدمی آپ سے اس لیے غصہ ہوتا ہے کہ آپ اس کو وہ چیز نہیں دے رہے ہیں، جو چیز وہ چاہتا ہے کہ اس کو ملے۔ ایسا غصہ بہت دیر پا ہوتا ہے۔ وہ صرف اس وقت ختم ہوتا ہے، جب کہ فریق ثانی کو اس کی مطلوب چیز مل جائے۔ اس طرح کے مسئلے میں دانش مندی کی بات یہ ہے کہ آدمی اصولی طور پر پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) کا طریقہ اختیار کرے۔ یعنی وہ فوراً ایک طرفہ (unilateral) بنیاد پر معاملے کو ختم کر دے۔ وہ اس کو اپنے حق (right) کا مسئلہ نہ سمجھے۔ بلکہ اس معاملے میں غیر ضروری ٹکراؤ سے بچ کر اپنے آپ کو مزید نقصان سے بچا لے۔

ایسے معاملے میں دیکھنے کی چیز صرف یہ ہوتی ہے کہ کیا قابل عمل ہے، اور کیا قابل عمل نہیں۔ جو قابل عمل ہو، اس کو اختیار کیجیے، خواہ بظاہر وہ آپ کے موافق ہو یا آپ کے خلاف۔ ایسے معاملے میں صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ نتیجہ کے اعتبار سے کیا طریقہ ممکن ہے، اور کیا طریقہ ممکن نہیں۔ ایسے معاملے میں آپ صرف یہ کیجیے کہ ممکن کو اپنا لیجیے، اور جو عملاً نا ممکن ہے، اس کو چھوڑ دیجیے۔ کیوں کہ ناممکن پر اصرار کرنے سے صرف نزاع میں اضافہ ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2018 All issues

Printed page