Al-Risala · February 2018 · page 5

معرفت ، نقطہ آغاز

الرسالہ، فروری ۲۰۱۸، صفحہ ۵

معرفت ، نقطہ آغاز

دینی فکر کے بارے میں کچھ لوگ جوش وخروش کے ساتھ کہتے ہیں: التوحید اولا ۔ یہ بات بظاہر درست ہے۔ لیکن یہ قرآن کے عین مطابق نہیں۔ قرآن کے مطابق، پہلے معرفت آتی ہے، اس کے بعد توحید آتی ہے۔ جیسا کہ حسب ذیل آیت قرآنی سے معلوم ہوتا ہے: وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ (83: ۔ یعنی اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں، اس سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔

معرفت سے مراد ہے ذہن کو تیار کرنا۔ جب ذہن تیار ہو جائے، اس کے بعد ہی آدمی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ توحید کو گہرائی کے ساتھ سمجھ سکے ۔ اسی بات کو ایک صحابی رسول، جندب بن عبد اللہ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: کنا مع النبي صلى الله عليه وسلم ونحن فتيان حزاورة، فتعلمنا الإيمان قبل أن نتعلم القرآن، ثم تعلمنا القرآن فازددنا به إيمانا (سنن ابن ماجه، حدیث نمبر 61)۔ یعنی ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اور ہم نوجوان تھے ۔ ہم نے ایمان سیکھا، قرآن سیکھنے سے پہلے۔ پھر ہم نے قرآن سیکھا، پس ہم نے اس کے ذریعہ سے ایمان میں اضافہ کیا۔

اس روایت میں ایمان سے مراد معرفت ایمان ہے۔ معرفت دراصل اس بات کا نام ہے کہ آدمی پہلے اپنے ذہن کو تیار کرے ۔ اس کے بعد وہ اس قابل بن جاتا ہے کہ ایمان و اسلام کو بے آمیز صورت میں سمجھ سکے۔ معرفت گویا ذہنی تربیت کی ایک صورت ہے۔ آج کل کی زبان میں اس معاملے کو سمجھنے کے لیے اس کو ڈی کنڈیشننگ کہا جاسکتا ہے۔ اس اعتبار سے معرفت نقطہ آغاز (starting point) ہے۔ جو لوگ التوحید أولاً کی بات کرتے ہیں، ان کو زیادہ درست طور پر المعرفة أولاً کہنا چاہیے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2018 All issues

Printed page