معرفت کی اہمیت
الرسالہ، فروری ۲۰۱۸، صفحہ ۶
معرفت کی اہمیت
ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: عن أبي هريرة ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : كل كلام، أو أمر ذي بال لا يفتح بذكر الله، فهو أبتر - أو قال : أقطع - (مسند احمد، حدیث نمبر 8712)۔ یعنی ہر کلام، یا اہم معاملہ، جو اللہ کے ذکر سے نہ شروع کیا جائے، وہ دم بریده (بے جڑ)، یا ادھورا ہے۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اللہ رب العالمین اس کائنات کا خالق اور مالک ہے۔ وہ ہر اعتبار سے اس کائنات کی اصل ہے۔ اس دنیا کی ہر بات اللہ سے شروع ہوتی ہے، اور اسی کی طرف لوٹتی ہے۔ یہی حقیقت قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے: ہُوَ الأَوَّلُ وَالآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالباطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (57:3)۔ اس بات کو دوسراے الفاظ میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ اس دنیا کی ہر بات کا سرا (starting point) اللہ رب العالمین ہے۔ اللہ کی ذات کو لے کر مطالعہ کیا جائے تو ہر بات قابل فہم رہے گی، اور اگر کسی اور بات کو لے کر مطالعہ کیا جائے تو کلام میں وضوح (clarity) ختم ہو جائے گا۔
انسانی علوم کی جتنی شاخیں ہیں، سب کا حاصل حقیقت تک پہنچنا ہے۔ اگر اللہ رب العالمین کی معرفت کو حاصل کرنے کے بعد حقیقتوں کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو ہر بات قابلِ دریافت بن جائے گی، اور اگر اللہ رب العالمین کی معرفت حاصل کیے بغیر حقیقت پر کلام کیا جائے تو ایسا طریقہ عملاً اندھیرے میں بھٹکنے کی مانند ہوگا۔ ایسے انسان کا کلام وضوح (clarity) سے خالی ہوگا۔ مذکورہ آیت میں وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ کا مطلب یہ ہے کہ ہر علم کا سر چشمہ اللہ رب العالمین کی ذات ہے۔ اللہ کے بغیر ہر علم بے علمی بن جاتا ہے۔ اردو شاعر، اکبر الہ آبادی نے جو بات فلسفی کی بارے میں کہی ہے، وہی ہر اس انسان پر صادق آتی ہے، جو اللہ کی معرفت حاصل کیے بغیر کلام کرنا شروع کر دے: فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں ڈور کو سلجھار ہا ہے، اور سر ملتا نہیں
‹ Previous page Next page › Contents of February 2018 All issues