Al-Risala · December 2018 · page 8

کنڈیشننگ کا مسئلہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۸

کنڈیشننگ کا مسئلہ

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ نے آل فرعون کے سامنے اپنی دعوت کو معجزاتی انداز میں پیش کیا، لیکن وہ اس کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ اس کے جواب میں انھوں نے کہا: مَهْمَا تَأْتِنَا بِهِ مِنْ آيَةٍ لِتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ (132: یعنی ہم کو مسحور کرنے کے لیے تم خواہ کوئی بھی نشانی لاؤ، ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ حضرت موسیٰ کا استدلال اپنے آپ میں کوئی کمزور استدلال تھا۔ حضرت موسیٰ کا استدلال پوری طرح طاقت ور استدلال تھا۔ لیکن انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ اپنی کنڈیشننگ کو توڑ کر سوچ نہیں پاتا۔ حقیقت کے اعتبار سے وہ کنڈیشننگ میں جیتا ہے، لیکن بطور خود یہ سمجھتا ہے کہ میں ایک ثابت شدہ حقیقت پر جی رہا ہوں۔ یہ خود فریبی انسان کے لیے ہمیشہ سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوئی ہے۔

حدیث میں اسی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ انسان اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے، لیکن اس کے گھر کا ماحول اس کو کنڈیشننگ کا شکار بنا دیتا ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385)۔ یہ کنڈیشننگ بلاشبہ ہر انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ہر انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی کنڈیشننگ کو ختم کرے۔ وہ اپنے آپ کو مسٹر کنڈیشنڈ کے بجائے، مسٹرڈی کنڈیشنڈ بنائے۔ جو آدمی ایسا نہ کر سکے، وہ سچائی کو قبول کرنے میں ناکام ہو جائے گا۔ خواہ رسول کا زمانہ ہو یا رسول کے بعد کا زمانہ۔ کنڈیشننگ کا ایک نقصان یہ ہے کہ آدمی ذہنی جمود (intellectual stagnation) کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ڈی کنڈیشنڈ آدمی حالات سے اوپر اٹھ کر سوچتا ہے، اس بنیاد پر وہ سچائی کو اس کی درست شکل میں دیکھتا ہے، اور اس کو قبول کر لیتا ہے۔ ہر آدمی کی یہ ایک اہم ذمے داری ہے کہ وہ اپنی کنڈیشننگ کو دریافت کرے، اور وہ سیلف ہیمرنگ کے ذریعے اپنے آپ کو کنڈیشننگ سے فری انسان بنائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2018 All issues

Printed page