Al-Risala · December 2018 · page 9

ماحول کا اثر

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۹

ماحول کا اثر

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، أَوْ يُنَصِّرَانِهِ، أَوْ يُمَجِّسَانِهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385)۔ یعنی ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اس کو یہودی بنا دیتے ہیں، یا نصرانی، یا مجوسی۔

اس حدیث رسول میں والدین سے مراد قریبی ماحول ہے۔ ہر آدمی کسی ماحول میں پیدا ہوتا ہے۔ اس وقت وہ صرف ایک بچہ ہوتا ہے، یعنی نا پختہ انسان (immature human being)۔ فطرت کے اعتبار سے ہر آدمی اپنی زندگی کا آغاز نا پختگی سے کرتا ہے۔ اس لیے ہر آدمی ماحول سے اثر قبول کرکے ماحول کی پیداوار (product) بن جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اپنے فطری حالات کی بنا پر ہر انسان لازمی طور پر ایک متاثر ذہن کا انسان (man of conditioning) بن جاتا ہے۔

اس مسئلے کا حل کیا ہے۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ ہر آدمی اپنا بے لاگ محاسبہ (introspection) کرے ۔ اس پر اس میں وہ اپنی کنڈیشننگ کو دریافت کرے، اور ایک ایک کرکے اپنی کنڈیشننگ کو توڑے، اور اس طرح اپنے آپ کو کنڈیشننگ سے نکال کر ایک ڈی کنڈیشنڈ انسان بنائے۔ کنڈیشننگ کا یہ واقعہ ہر انسان کی زندگی میں ایک فطری قانون کے تحت پیش آتا ہے۔ لیکن اسی طرح اس معاملے میں اصلاح فطرت کا قانون بھی ہے۔ اگر آدمی اس فطری قانون کو استعمال کرے تو خود فطرت اس کی معلم بن جائے گی۔ اس کے ذہن میں اپنے آپ ایک جوابی کنڈیشننگ (counter conditioning) کا عمل شروع ہو جائے گا۔ یہاں تک کہ دھیرے دھیرے وہ مکمل معنوں میں ایک ڈی کنڈیشنڈ انسان بن جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2018 All issues

Printed page