داخلی اصلاح کا نظام
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۱۱
داخلی اصلاح کا نظام
فطرت (nature) خالق کی ایک تخلیق ہے۔ اس موضوع پر قرآن کی مختلف آیتوں کا مطالعہ کرنے کے بعد اس کا جو مطلب سمجھ میں آتا ہے، وہ یہ ہے کہ فطرت کوئی پراسرار چیز نہیں، وہ انسان کے لیے ایک معلوم حقیقت ہے۔ فطرت ہر موقعے پر انسان کو الارم دیتی ہے کہ وہ کیا کرے، اور کیا نہ کرے ۔ فطرت کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (30:30) ۔ یعنی اللہ کی فطرت جس پر اس نے لوگوں کو بنایا ہے۔ اسی طرح قرآن میں آیا ہے : فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا (91:8)۔ یعنی پھر اس کو سمجھ دی، اس کی بدی کی اور اس کی نیکی کی۔ فطرت ہر موقعے پر انسان کی رہنمائی کرتی ہے۔ لیکن یہ رہنمائی خاموش زبان (unspoken language) میں ہوتی ہے۔ فطرت انسان کی صحیح گائڈ ہے۔ وہ ہر موقعے پر انسان کو آواز دیتی ہے۔ کیوں کہ انسان کے اندر بیک وقت دو فیکلٹی موجود ہیں ، ایک اکائُنٹیبل پرسنالٹی، اور دوسرا الارمنگ کانشنس (conscience)۔
اگر آدمی بروقت اس آواز کو سن لے، تو وہ فوراً انسان کی رہنمائی کے لیے متحرک ہو جاتی ہے، اور اگر انسان فوراً متحرک نہ ہو، تو وہ انسان کو اس کے حال پر چھوڑ دیتی ہے۔ فطرت کی یہ خاموش زبان اگرچہ انسان نہیں سنتا، لیکن ہر آدمی اس کو غیر واضح انداز میں فوراً محسوس کر لیتا ہے۔ یہ واقعہ جو انسان کے اندر پیش آتا ہے، وہ دوسرے الفاظ میں وہی ہے جس کو ضمیر (conscience) کہا جاتا ہے۔ انسان کی شخصیت ایک آزاد شخصیت ہے۔ وہ ردوقبول کا آزادانہ فیصلہ کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ فطرت یا ضمیر کا کام انسان کو صرف الارم دینا ہے۔ یہ فطری الا رم اپنے صحیح وقت پر بجتا ہے، اور انسان یقینی طور پر اس کو سنتا ہے۔ اب یہ انسان کا اپنا چوائس (choice) ہے کہ وہ فطرت کی آواز کو سنے یا اس کا انکار کر دے ۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ (18:29)۔ یعنی اور کہو کہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے، پس جو شخص
‹ Previous page Next page › Contents of December 2018 All issues