مومن کی فراست
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۱۰
مومن کی فراست
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے :عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِتَّقُوا فراسَةَ المُؤْمِنِ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللهِ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3127)۔ یعنی مومن کی فراست سے بچو، کیوں کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ اس کا مطلب دوسرے الفاظ میں یہ ہے کہ دانش مند آدمی کے ساتھ چال بازی سے بچو۔
مومن وہ ہے جو اللہ رب العالمین کے نقشہ تخلیق (creation plan) کو دریافت کرتا ہے۔ وہ فطرت کے اصولوں کی بنیاد پر اپنی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے۔ اس کا ارتکاس کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ وہ چیزوں کو خالق کائنات کی روشنی میں دیکھ سکے۔ یہ چیزیں مومن کو اعلی معنوں میں دانش مند بنا دیتی ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ حکمت (wisdom) کی روشنی میں اپنے معاملات کو حل کرے۔ دانش مندی کیا ہے۔ دراصل فطرت کے قوانین کی پابندی کرنے کا نام ہے۔ جو آدمی اس معنی میں دانش مند ہو، وہ ایک ناقابل تسخیر انسان بن جاتا ہے۔ وہ ان کمزوریوں سے پاک ہوتا ہے جو کسی انسان کو کمزور شخصیت (weak personality) بنانے والی ہیں۔ اس کی بنا پر کوئی انسان جذباتیت کا شکار نہیں ہوتا۔ وہ اپنے آپ کو اس سے بچا لیتا ہے کہ شیطان اس کو اپنی تزئینات کا شکار کر لے، اور اس کو تباہی کے راستے پر چلنے والا بنا دے۔
فراست مومن سے مراد وہ فراست ہے جو اللہ رب العالمین کی دریافت سے بنے۔ جو اللہ کے قائم کردہ فطری قوانین پر مبنی ہو۔ ایسا انسان غلط منصوبہ بندی سے بچ جاتا ہے۔ اس بنا پر وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ کسی کی سازش کا شکار ہونے سے بچ جائے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ دانش مند آدمی کسی بھی بات کو ایز اٹ از (as it is) نہیں قبول کرتا، بلکہ وہ اس کو دیکھتا ہے، اس میں غور وفکر کرتا ہے، معاملے کی اسکروٹنی (scrutiny) کرتا ہے، پھر وہ اس کو قبول کرتا یا رد کرتا ہے۔ اس بنا پر وہ اپنے آپ کو غیر ضروری مسائل سے بچا لیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2018 All issues