Al-Risala · December 2018 · page 15

اتباع کا مطلب

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۱۵

اتباع کا مطلب

اکثر سلفی حضرات یہ اصول بیان کرتے ہیں کہ كُلُّ خَيْرٍ فِي اتِّبَاعِ مَنْ سَلَفَ، وَكُلُّ شَرٍّ فِي ابْتِدَاعِ مَنْ خَلَفَ (تمام خیر سلف کی اتباع میں ہے، اور تمام برائی بعد میں آنے والوں کی ایجاد کردہ باتوں میں ہے)۔ اس کی حقیقت کیا ہے۔ وضاحت فرمائیں۔ (حافظ سید اقبال احمد عمری، چنتی، تامل ناڈو)۔

اس کے جواب میں یہاں ایک حدیثِ رسول، اور خود ائمہ سلف میں سے ایک امام کا قول نقل کیا جاتا ہے۔ حدیثِ رسول یہ ہے: تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ، لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ (موطا امام مالک، حدیث نمبر 2618)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ میں تمھارے درمیان دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں، تم ہرگز گمراہ نہیں ہو گے جب تک تم اس کو پکڑے رہو، وہ ہے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت۔

اسی کے مثل امام احمد بن حنبل (وفات: 241ھ) نے مسئلہ خلق قرآن کے تعلق سے خلیفہ معتصم باللہ (وفات: 227ھ) سے کہا تھا: یا امیر المؤمنین، أعطوني شيئاً من كتاب الله أو سنّۃ رسول الله حتى أقول به (تاریخ الاسلام للذهبي، بيروت، 1993، 18/103)۔ یعنی اے امیر المومنین، آپ مجھے کوئی ایسی چیز لا کر دیجیے جو کتاب اللہ یا سنتِ رسول میں ہو، تا کہ میں اس کو مان لوں۔

حدیثِ رسول اور امام احمد کے بیان کردہ اصول کی روشنی میں سلفی حضرات کے مذکورہ قول کو دیکھنا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قول کو اگر معتدل معنی میں لیا جائے تو وہ صرف یہ ہے کہ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل یا نظریہ کا انتخاب کرتے ہوئے، دوسرے علما سے استفادہ کرے ۔ اس قول کو اس معنی میں لیا جائے تو اس میں کوئی قباحت پیدا نہیں ہوگی، لیکن اگر اس کو غلو تک پہنچا دیا جائے، تو پھر اس میں قباحت کا آغاز ہو جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2018 All issues

Printed page