Al-Risala · December 2018 · page 16

اتباع کا مطلب

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۱۶

حقیقت یہ ہے کہ ہر قول میں ایک سچائی کا عنصر ہوتا ہے۔ اس عنصر کو ملحوظ رکھتے ہوئے، جب اس پر عمل کیا جائے، تو وہ اعتدال کا معاملہ رہتا ہے، لیکن جب اس کو منطقی حد (logical end) تک پہنچادیا جائے، تو اس میں مشکلات کا آغاز ہوجائے گا۔

مثلاً اگر ایک عالم کہتا ہے کہ وضو کے وقت تمام اعضا کو ٹھیک سے دھونا چاہیے۔ سادہ مفہوم کے لحاظ سے یہ قول بالکل درست قول ہے۔ لیکن اگر اس کو منطقی حد تک پہنچایا جائے، اور یہ کہا جائے کہ ہر بال کی جڑ تک پانی کو پہنچانا ضروری ہے، یا آنکھ کے اندرونی حصے کو دھونا ضروری ہے، تو یہ غلو کا معاملہ ہوگا، اور دین کے نام پر شدت تک پہنچ جائے گا، جو دین میں مطلوب نہیں۔ دین میں اعتدال مطلوب ہے، اور غلو غیر مطلوب۔

☆☆☆☆☆☆☆

قرآن کے مطابق، ہمارا دشمن صرف شیطان ہے جس کو قرآن میں طاغوت کہا گیا ہے۔ ہماری لڑائی صرف شیطان سے ہے، کسی اور سے نہیں۔ انسان کے اندر امتحان کے مقصد سے مختلف قسم کے جذبات رکھے گئے ہیں۔ مثلاً غصہ اور انتقام، وغیرہ۔ ان جذبات کو غلط رُخ دے کر شیطان ہم کو صحیح راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وہ مواقع ہیں جب کہ ہمیں شیطان سے لڑنا ہے۔ شیطان کی تزیین (الحجر، 15:39) سے بچنے ہی کا نام تزکیہ ہے اور جولوگ اس اعتبار سے اپنا تزکیہ کریں، وہی وہ لوگ ہیں جن کو جنت میں داخلہ ملے گا (طٰہ، 20:76) شیطان کے خلاف انسان کی لڑائی صرف نفسیات کی سطح پر ہوتی ہے، تشدد اور ہتھیار کی سطح پر نہیں۔ جہاں تک انسان کا معاملہ ہے، قرآن کے مطابق، انسان ہمارا مدعو ہے۔ وہ ہمارا حریف یا دشمن نہیں۔ انسان کے ساتھ ہمارا تعلق داعی اور مدعو کا ہے، دشمن یا مد مقابل کا نہیں۔ انسان کے مقابلے میں ہماری ذمے داری یہ ہے کہ ہم اُس کو پر امن طور پر خدا کا پیغام پہنچائیں۔ پیغام رسانی کا یہ کام صرف وہ لوگ کر سکتے ہیں جو نفرت اور عداوت کے جذبات سے مکمل طور پر خالی ہوں۔ نفرت اور دعوت دونوں ایک سینے کے اندر جمع نہیں ہو سکتے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2018 All issues

Printed page