Al-Risala · February 2018 · page 8

وطأ شدید

الرسالہ، فروری ۲۰۱۸، صفحہ ۸

وطأ شدید

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں لمبی نمازیں پڑھتے تھے۔ اس نماز کے لیے قرآن میں وطأ شدید (المزمّل: 6) کا لفظ آیا ہے۔ وطأ شدید کا مطلب ہے شدت کے ساتھ روندنا، یعنی مشقت کی حد تک اللہ کی عبادت کرنا۔ یہ فعل روحانی ترقی (spiritual development) کا اہم ذریعہ ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک عام عمل ہے۔ عبادت کے حوالے سے اس کو قرآن میں وطأ شدید کہا گیا ہے، اور عمومی حوالے سے اس کو حدیث میں بلاء شدید بتایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں حدیث کے یہ الفاظ قابل غور ہیں: إن من أشد الناس بلاء الأنبياء، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم (مسند احمد، حدیث نمبر 27079)۔ یعنی بیشک لوگوں میں سب سے زیادہ بلاء پیغمبروں پر آتی ہے، پھر وہ جوان سے قریب ہیں، پھر وہ جوان سے قریب ہیں، پھر وہ جوان سے قریب ہیں۔

اصل یہ ہے کہ انسان کی فطرت کے اندر پیدائشی طور پر خالق کی معرفت رکھ دی گئی ہے۔ مگر یہ معرفت بالقوة (potential) انداز میں ہے۔ اس بالقوة کو بالفعل (actual) بنانے کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ انسان پر دباؤ (pressure) کے تجربات گزریں۔ یہی دباؤ کا تجربہ ہے جو کسی آدمی کے لیے بالقوة معرفت کو بالفعل معرفت بنا دیتا ہے۔ یہ تجربہ عام انسان کے لیے عمومی سطح پر پیش آتا ہے، اور پیغمبروں کے لیے خصوصی سطح پر۔

اس بات کو دوسرے الفاظ میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ معرفت کا علم آدمی کو کتابی مطالعے سے حاصل ہو جاتا ہے۔ لیکن دریافت (discovery) کے درجے میں معرفت کا حصول صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ آدمی بلاء شدید کے مرحلے سے گزرے۔ بلاء شدید آدمی کو حساس بناتی ہے۔ حساسیت (sensitivity) آدمی کے اندر قوت اخذ (grasp) کا مادہ پیدا کرتی ہے۔ اس کے بعد آدمی اس قابل بن جاتا ہے کہ وہ ذاتی دریافت کے درجے میں معرفت کو حاصل کر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2018 All issues

Printed page