ابدی جنت
الرسالہ، فروری ۲۰۱۸، صفحہ ۷
ابدی جنت
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت کا انعام غیر ممنون انعام (endless reward) ہوگا۔ اس سلسلے میں قرآن میں چار جگہ اجر غیر ممنون کے الفاظ آئے ہیں۔ ایک جگہ یہ حقیقت مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان ہوئی ہے: وَأَمَّا الَّذِينَ سُعِدُوا فَفِي الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ (11:108)۔ یعنی اور جو لوگ خوش بخت ہیں۔ وہ جنت میں ہوں گے، وہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں، مگر جو تیرا رب چاہے، ایک عطیہ جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔
جنت کا غیر منقطع ہونا واضح ہے۔ کیوں کہ جنت رب العالمين کا عطیہ ہے، اور خدائے لامحدود کا عطیہ کبھی محدود نہیں ہوسکتا۔ یہ رب العالمين کی شان کے خلاف ہے کہ وہ کسی کو محدود عطیہ دے۔ محدود عطیے کا تصور اللہ رب العالمين کے کمتر اندازہ (underestimation) کے ہم معنی ہے، اور ایسا کبھی ہونے والا نہیں۔ اب سوال انسان کا ہے۔ کیا یہ لامحدودیت جو اللہ کی نسبت سے ہے، وہ انسان کی نسبت سے بھی باقی رہے گی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت میں جب اہل جنت کو داخلہ مل جائے گا تو وہ کہیں گے: الحَمْدُ لِلّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الحَزَنَ (35:34)۔ یعنی شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے رنج کو ختم کر دیا۔
اہل جنت کی طرف سے اظہار حمد، یہ وقتی کلمہ نہیں ہے۔ یہ ابدی احساس حمد کی بات ہے۔ اہل جنت کی طرف سے احساس حمد، بلاشبہ ایک تخلیقی احساس (creative feeling) کی بات ہے۔ یہ کریٹیو احساس انھوں نے دنیا کی زندگی میں حاصل کیا ہوگا۔ یہ کریٹیو احساس حمد جو جنت کے پانے سے پہلے بذریعہ معرفت اہل جنت کے اندر پرورش پائے گا، وہ اتنا طاقت ور ہوگا کہ وہ جنت کا ابدی عطیہ پانے کے بعد بھی برابر ایک اضافہ پذیر تجربہ کی حیثیت سے جاری رہے گا۔ جنت جس طرح ابدی ہوگی، اسی طرح جنت کے پانے پر احساس حمد بھی یقینی طور پر ابدی ہوگا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2018 All issues