Al-Risala · December 2018 · page 38

امت کی بیداری

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۳۸

امت کی بیداری

امت کی بیداری ایک عام موضوع ہے، جس پر تمام لوگ کچھ نہ کچھ لکھتے رہتے ہیں۔ اگر ان تحریروں اور تقریروں کو یکجا کیا جائے تو غالباً سب کا خلاصہ ایک ہوگا، اور وہ ہے امت کو جوش دلا کر عمل پر ابھارنا۔ مثلاً امیر شکیب ارسلان کی کتاب لماذا تأخر المسلمون ولماذا تقدم غيرهم (1939ء)، کا موضوع مسلمانوں میں بیداری لانا ہے۔ مگر پوری کتاب جوش دلانے کے انداز میں لکھی گئی ہے، اس میں کوئی ریشنل پوائنٹ نہیں ہے۔ صرف جوش دلا کر ابھارنے کا انداز ہے۔ اسی طرح اقبال کا کلام مسلمانوں کو جوش دلانے کے انداز میں ہے۔ مثلاً ان کا نمائندہ ایک شعر یہ ہے: نوا را تلخ تر می زن چو ذوق نغمہ کم یابی حدی را تیز تر می خواں چو محمل را گراں بینی یعنی اگر ذوق نغمہ کم ہو گیا ہے تو اپنے گیت کو تیز کر دے۔ اگراونٹ پر بوجھ زیادہ ہو تو حدی خواں اپنی لے اور تیز کر دیتے ہیں۔

ایک امت جب اپنے دور زوال میں پہنچ جائے تو جذباتی شعلہ بیانی کا کوئی کام نہیں رہتا۔ اس وقت کرنے کا کام یہ ہوتا ہے کہ افراد کو ذہنی غذادی جائے۔ افراد کو عروج و زوال کے قوانین بتائے جائیں۔ اس معاملے میں قرآن کی دورہنما آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت کے آگے جھک جائیں۔ اور اس حق کے آگے جو نازل ہو چکا ہے۔ اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے ۔ اور ان میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں۔ جان لو کہ اللہ زمین کو زندگی دیتا ہے اس کی موت کے بعد، ہم نے تمہارے لیے نشانیاں بیان کر دی ہیں، تاکہ تم سمجھو (57:16-17)۔ قرآن کی ان آیتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ زوال یافتہ امت کو دوبارہ زندہ کرنے کا آغاز افراد کو خاشع بنانے سے ہوتا ہے، نہ کہ جذبات کی بنیاد پر کئے گئے اقدام سے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2018 All issues

Printed page