Al-Risala · December 2018 · page 39

شخصیت کی تبدیلی

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۳۹

شخصیت کی تبدیلی

رسول اللہ کے بہت سے اصحاب کے بارے میں کتابوں میں آتا ہے کہ اسلام سے پہلے وہ ایک مختلف انسان تھے، اسلام قبول کرنے کے بعد وہ بالکل دوسرے انسان بن گئے۔ مثلاً پہلے سخت تھے، تو اب نرم ہوگئے۔ پہلے ان کے اندر نفرت کا جذبہ تھا، تو اب وہ انسان سے محبت کرنے والے بن گئے، وغیرہ۔

صحابہ کے اندر یہ تبدیلی کسی کرامت کی بنا پر نہیں ہوئی، بلکہ معلوم سبب سے ہوئی ۔ اسلام قبول کرنے کے بعد ان کے دلوں میں اللہ کا ڈر پیدا ہو گیا۔ پہلے وہ بے فکری کی زندگی گزارتے تھے، اب وہ آخرت کو سوچ کر فکر مند زندگی گزارنے لگے، وغیرہ۔ ان چیزوں کے نتیجے میں ان کے اندر نئی سوچ جاگی۔ وہ آخرت کی جواب دہی کے بارے میں سوچنے لگے۔ ان کے اندر جنت کا شوق پیدا ہو گیا۔ اس طرح ان کے اندر ایک نیا فکری عمل (thinking process) جاری ہو گیا۔ اس فکری عمل کے نتیجے میں دھیرے دھیرے ان کی سوچ بدلی۔ سوچ کی اس تبدیلی کے نتیجے میں وہ تبدیلی آئی، جس کو ہم سیرت کی کتابوں میں پڑھتے ہیں۔

اس طرح کی تبدیلی کسی کرامت کے نتیجے میں نہیں پیدا ہوتی۔ بلکہ وہ فکری انقلاب کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ انسان پہلے ذہن کی سطح پر بدلتا ہے۔ اس کے بعد اس کے اخلاق اور کردار میں تبدیلی آتی ہے۔ آدمی کی فکر میں اگر تبدیلی نہ آئے، تو اس کے اندر عمل کے اعتبار سے تبدیلی بھی نہیں آئے گی۔ آدمی پہلے شعور کی سطح پر بدلتا ہے، اس کے بعد وہ عمل کی سطح پر ایک نیا انسان بن جاتا ہے۔ یہ ایک خاموش پر اسس (silent process) ہے، جو ہر اس انسان کی زندگی میں پیدا ہوتا ہے، جو سوچ سمجھ کر اپنی زندگی میں تبدیلی لانے کا فیصلہ کرے۔

ایسے لوگوں کا کیس یہ تھا کہ پہلے وہ بے خبری کی زندگی گزار رہے تھے۔ بعد کو جب انھیں حقیقت کی دریافت ہوئی، تو ان کا ذہن جاگ اٹھا۔ وہ اپنے ماضی اور مستقبل کے بارے میں سوچنے

‹ Previous page Next page › Contents of December 2018 All issues

Printed page