ذہن سازی
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۸، صفحہ ۴۱
ذہن سازی
ذہن دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک، علمی ذہن، اور دوسرا وہ جس کو شخصیت پرستی (personality cult) کا ذہن کہا جاتا ہے۔ علمی ذہن وہ ہے جس میں ساری گفتگو علم کی بنیاد پر کی جائے۔ جس میں فیصلے کی بنیاد صرف مسلمہ علم ہو، نہ کہ کوئی اور چیز۔ جس میں مسلمہ علم کی بنیاد پر کوئی چیز قبول کی جائے، اور مسلمہ علم کی بنیاد پر کسی چیز کو رد کر دیا جائے۔ جہاں علمی ذہن ہو، وہاں ہمیشہ ذہنی ترقی کا سفر برابر جاری رہتا ہے۔ وہاں ترقی کا سفر کبھی جمود (stagnation) کا شکار نہیں ہوگا۔ یہ مزاج کیا ہے، اس کو برطانوی رائٹر اور نقاد برنارڈ شا نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے— میرا قد شیکسپیر سے چھوٹا ہے، لیکن میں شیکسپیر کے کندھے پر کھڑا ہوا ہوں:
Shakepear is a far taller man than I am, but I stand on his shoulders. (The Oxford Companion to Shakespeare, Shaw, George Bernard, p. 499)
اس کے برعکس، شخصیت پرستی کا معاملہ ہے۔ شخصیت پرستی ہمیشہ ذہنی جمود (intellectual stagnation) پیدا کرتی ہے۔ جہاں شخصیت پرستی ہو، وہاں لوگوں کے اندر وہ سوچ پیدا ہوگی، جس کو ایک قدیم جاہلی شاعر، عنترہ بن شداد نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: هَلْ غَادَرَ الشُّعَرَاءُ مِنْ مُتَرَدَّمِ کیا شاعرانے کوئی پیوند لگانے کی کوئی جگہ چھوڑی ہے۔ شعرا سے مراد ان کے نزدیک بڑے شاعر تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ عرب کے بڑے شعرا نے سب کچھ کہہ دیا ہے، اب کوئی چیز کہنے کے لیے باقی نہیں رہی۔ پرسنالٹی کلٹ کیا ہے۔ کسی مشہور شخصیت کے بارے میں غلو آمیز انداز میں تعریف یا اس سے وابستگی:
Personality cult is excessive public admiration for or devotion to a famous person.
‹ Previous page Next page › Contents of December 2018 All issues